السلام علیکم !
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آن لائن کا روبار ہے ؟ جس میں لوگ مثلاً زید آن لائن اسٹور تخلیق کرتا ہے، اور اسے مناسب طریقے سے سجاتا ہے، اور اس پر مختلف اشیاء بیچنے کے لئے پیش کرتا ہے، جو حقیقت میں ان کے پاس موجود نہیں ہوتی، بلکہ وہ دیگر آن لائن اسٹورز مثلاً بکر کے اسٹور پر ایسی مصنوعات تلاش کرتا ہے، جو اچھی طرح سے فروخت کر سکتا ہے، اور ان کی اشیاء کو اپنے آن لائن سٹور پر قیمت تھوڑی بڑھا کر پیش کر دیتا ہے ؟ اور اس سامان کو فروخت کر کے منافع کماتے ہیں، اور جب کوئی شخص زید کو آرڈر دیتا ہے، تو وہ اس سے معاملہ کرنے کے بعد خریدنے والے کے ایڈریس کو بکر کے آن لائن سٹور کو بھیج دیتا ہے، جہاں وہ چیز موجود ہوتی ہے تا کہ آرڈر وہ پورا کریں ؟ بکر کو ادائیگی بھی زید کرتا ہے ،اور خریدار سے قیمت خود لیتا ہے ؟ اس سارے عمل کے دوران مبیع زید کے پاس نہیں ہوتا، لیکن اہم بات یہ ہے کہ زید ایک آن لائن اسٹور بناتا ہے، اور عمدہ کسٹمر سروس کے ساتھ اچھی ساکھ بناتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ بکر وغیرہ کی بجائے زید کو آرڈر دینا پسند کرتے ہیں ،اور تھوڑا سا اضافی رقم کے ساتھ زید سے خریدنے کے لئے تیار ہیں (اس کاروبار میں زید خریدار کے ساتھ قیمت پہلے سے ہی طے کرتا ہے، ترسیل کی تاریخ کا فیصلہ کیا جاتا ہے ،اور مصنوعات کے معیار کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے،اور یہاں تک کہ گاہک کسی بھی وقت اشیاء واپس بھیج سکتے ہیں، اگر وہ ان کی ضرورت پوری نہیں کرتی ،یا انہیں پسند نہیں آتی یا ڈیلیوری کے دوران نقصان پہنچ جائے ،تو قیمت واپس کر دی جاتی ہے ،بریکٹ میں ذکر کردہ تمام ذمہ داریاں زید کے سر ہوتی ہیں۔ وہ جو منافع کماتا ہے ،وہ اپنی ان ذمہ داریوں اور اچھی ساکھ کی وجہ سے کماتا ہے ؟ نیز زید کے اسٹور پر فروخت کی جانے والی اشیاء کا مختصر تعارف بھی کرایا جاتا ہے ،جس میں یہ بات واضح طور پر لکھ دی جاتی ہے کہ اپنے پاس سامان نہ ہونے کی صورت میں وہ دوسروں سے خرید کر بھی دے سکتے ہیں ؟ اس کاروبار کو اصطلاح میں ڈراپ شپنگ کہا جاتا ہے، جس کی تمام تر تفصیلات انٹرنیٹ پر موجود ہیں، اور آن لائن کاروبار میں مصروف 60 سے 70 فیصد افراد اس میں ملوث ہیں؟ اب اس ساری تفصیل کی روشنی میں سوال یہ ہے کہ کیا یہ کاروبار حلال ہے ؟ اگر نہیں تو شرائط اور طریقہ کار میں ایسی کیا تبدیلیاں کی جائیں کہ یہ کاروبار جواز کی حدود میں داخل ہو جائے؟
زید لوگوں سے آرڈر لے کر کسی دوسرے اسٹور سے سامان خرید کر گاہک کو فراہم کرتا ہو، پھر اپنا نفع رکھ کر اسٹور مالکان کو سامان کی قیمت پہنچاتا ہو تو اس طرح کاروبار کرنا بلاشبہ جائز ہے، مگر آن لائن اسٹور اس طرح ظاہر کرنا کہ سب طرح کا سامان اس اسٹور میں موجود ہوتا ہے ،ایک طرح کی غلط بیانی ہے ، جس سے احتراز لازم ہے۔
كما في المبسوط للسرخسي: وزاد في بعض الروايات عن بيع ما ليس عنده يعني ما ليس في ملكه بيانه في حديث «حكيم بن حزام - رضي الله عنه - أنه قال لرسول الله - صلى الله عليه وسلم -: إني ربما أدخل السوق فأستجيد السلعة ثم أذهب فأبيعها ثم أبتاعها فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: لا تبع ما ليس عندك.» اھ (14/ 36)۔
و في حاشية ابن عابدين: مطلب في أجرة الدلال [تتمة] قال في التتارخانية: و في الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. و في الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام اھ (6/ 63)-
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0