مجھے دو سوالوں کے جواب مطلوب ہیں !
(۱) اگر بیوی خلع کا صرف کیس کرے اور پھر سات مہینے گزر جانے کے بعد نہ تو خلع کرے کورٹ جاکر، اور نہ ہی واپس آئے، بس الگ رہے، اور بچوں کو بھی نہ ملنے دے تو ایسی صورت میں شوہر کو کیا کرنا چاہیئے؟
(۲) سنا ہے چار مہینے اور دس دن شوہر اور بیوی کے الگ رہنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے، کیا یہ بات صحیح ہے؟
واضح ہو کہ طلاق کے بغیر میاں بیوی کے الگ رہنے کی وجہ سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا، اس لئے اگر سائل نے طلاق یا خلع نہ دیا ہو تو محض بیوی سے علیحدہ رہنے کی وجہ سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا، سائل نے یہ نہیں لکھا کہ اس کی بیوی خلع کا مطالبہ کیوں کر رہی ہے، البتہ اگر بلا وجہ خلع کا مطالبہ کر رہی ہو تو یہ گناہ کی بات ہے ، اس لئے بیوی کو چاہیئے کہ اپنے مذکور طرزِ عمل سے باز آئے، بصورتِ دیگر سائل قانونی چارہ جوئی کا بھی مجاز ہے۔
کما في رد المحتار: (قوله وهي الناشزة) أي بالمعنى الشرعي أما في اللغة فهي العاصية على الزوج المبغضة له۔اھ (3/576)
وفي فتح القدير: الإيلاء لأنه أقرب إليه في الإباحة، لأنه من حيث هو يمين مشروع لكن فيه معنى الظلم لمنع حقها في الوطء۔اھ (4/188)
شادی شدہ عورت اگر کسی کے ساتھ بھاگ کر چلی جائے تو اس کا نکاح ختم ہو جاتاہے؟نیز اس عورت کو ازخود قتل کیا جاسکتا ہے ؟
یونیکوڈ تفریق و تنسیخ 1