عشر و خراج

نہری زمین کو کرایہ پر دیا جائے تو اس کے عشر کا کیا حکم ہے ؟

فتوی نمبر :
35956
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / عشر و خراج

نہری زمین کو کرایہ پر دیا جائے تو اس کے عشر کا کیا حکم ہے ؟

میرا سوال یہ ہے کہ بنجر زمین میں تو عشر ہوتا ہے، اور نہری زمین میں بیسواں حصہ واجب ہوتا ہے، اگر نہری زمین کو کرائے پر دیا جائے تو اس میں کتنا واجب ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

زمین کی پیداوار میں جو حق شرعاً واجب ہوتا ہے، اس کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر پیداوار ایسی زمین کی ہے، جس کو قدرتی ذرائع سے سیراب کیا جاتا ہے، اور اس میں کوئی اخراجات نہیں اٹھانے پڑتے ، جیسے بارانی یا نہری زمین تو اس میں عشر واجب ہوتا ہے ، جبکہ پیداوار اگر ایسی زمین کی ہے، جس کو مصنوعی ذرائع سے سیراب کیا جاتا ہوں جیسے، ٹیوب ویل وغیرہ، تو اس میں نصف عشر ، یعنی بیسواں حصہ واجب ہوگا۔
اور سوال میں مذکور نہری زمین چونکہ پہلی قسم میں سے ہے، لہذا اس میں عشر واجب ہوگا، البتہ اگر زمین سالانہ یا ماہانہ کرایہ پر دی گئی اور کرایہ دار اس میں کاشت کرے، تو اس میں عشر یا نصف کی ادائیگی کا شتکار (کرایہ دار) کے ذمہ لازم ہوگی، زمین کے مالک پر لازم نہ ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدرالمختار: (وكذا) يجب العشر (الی قولہ) (و) تجب في (مسقي سماء) أي مطر (وسيح) كنهر (الی قولہ) (و) يجب (نصفه في مسقي غرب) أي دلو كبير (ودالية) أي دولاب لكثرة المؤنة الخ (2/325)۔
فیہ ایضاً: والعشر على المؤجر كخراج موظف وقالا على المستأجر كمستعير مسلم: وفي الحاوي وبقولهما نأخذ الخ (2/334)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله وبقولهما نأخذ) قلت: لكن أفتى بقول الإمام جماعة من المتأخرين كالخير الرملي في فتاواه وكذا تلميذ الشارح الشيخ إسماعيل الحائك مفتي دمشق وقال حتى تفسد الإجارة باشتراط خراجها أو عشرها على المستأجر كما في الأشباه، وكذا حامد أفندي العمادي وقال في فتاواه قلت: عبارة الحاوي القدسي لا تعارض عبارة غيره فإن قاضي خان من أهل الترجيح فإن من عادته تقديم الأظهر والأشهر وقد قدم قول الإمام فكان هو المعتمد وأفتى به غير واحد منهم زكريا أفندي شيخ الإسلام وعطاء الله أفندي شيخ الإسلام، وقد اقتصر عليه في الإسعاف والخصاف. اهـ.
قلت: لكن في زماننا عامة الأوقاف من القرى والمزارع لرضا المستأجر بتحمل غراماتها ومؤنها يستأجرها بدون أجر المثل بحيث لا تفي الأجرة، ولا أضعافها بالعشر أو خراج المقاسمة، فلا ينبغي العدول عن الإفتاء بقولهما في ذلك؛ الخ (2/334)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 35956کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • ٹھیکہ پر لی گئی زمین کی فصل میں عشر کس حساب سے دیاجائیگا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   عشر و خراج 0
  • شمسی توانائی کے ٹیوب ویل سے حاصل ہونے والی کاشت پر عشر

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   عشر و خراج 0
  • بٹہ پر لی گئی زمین پر عشرکے احکام

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   عشر و خراج 0
  • زمینی پیداوارپر عشراورنصف عشرکی تفصیل

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   عشر و خراج 0
  • کیا مقروض آدمی عشر ادا کرےگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   عشر و خراج 0
  • کھٹائی سے قبل گنا فروخت کرنے صورت عشر کس حساب دیناہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   عشر و خراج 0
  • ٹیوب ویل کے ذریعہ سیراب شدہ زمین کی پیداوارپر عشرہے یا نصف عشر؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   عشر و خراج 1
  • عشر کے پیسوں سے اسکول میں پانی کا انتظام کرنا

    یونیکوڈ   عشر و خراج 0
  • مزارعت (بٹھائی پر زمین دینے) کی صورت میں عشر کے احکامات

    یونیکوڈ   عشر و خراج 0
  • نہری زمین میں عشر و نصف عشر کا حکم

    یونیکوڈ   عشر و خراج 0
  • عشر کی رقم چچاز زاد اور پھوپھی کو دینا - بیت الخلاء میں وضو کرتے وقت دعائیں پڑھنا

    یونیکوڈ   عشر و خراج 0
  • چودہ من نہری زمین کی گندم پر عشر کا حکم اور واجب مقدار

    یونیکوڈ   عشر و خراج 1
  • ٹھیکہ پر لی ہوئی زمین میں عشر کا حکم

    یونیکوڈ   عشر و خراج 0
  • نہری زمین کو کرایہ پر دیا جائے تو اس کے عشر کا کیا حکم ہے ؟

    یونیکوڈ   عشر و خراج 0
  • زمین کے اردگرد اگر چار دیواری ہو تو اس میں عشر لازم ہوگا؟

    یونیکوڈ   عشر و خراج 0
  • جانوروں کے لئے اگائے ہوئے چارہ پر عشر کا حکم

    یونیکوڈ   عشر و خراج 0
  • عشر کی رقم سے جنازہ گاہ تعمیر کرنا

    یونیکوڈ   عشر و خراج 0
  • مغصوبہ زمین کی پیداوار میں عشر کا حکم

    یونیکوڈ   عشر و خراج 0
  • سولر سے سیراب کی جانے والی زمین میں عشر لازم ہوگا یا نصف عشر ؟

    یونیکوڈ   انگلش   عشر و خراج 0
Related Topics متعلقه موضوعات