میرا سوال یہ ہے کہ بنجر زمین میں تو عشر ہوتا ہے، اور نہری زمین میں بیسواں حصہ واجب ہوتا ہے، اگر نہری زمین کو کرائے پر دیا جائے تو اس میں کتنا واجب ہوگا؟
زمین کی پیداوار میں جو حق شرعاً واجب ہوتا ہے، اس کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر پیداوار ایسی زمین کی ہے، جس کو قدرتی ذرائع سے سیراب کیا جاتا ہے، اور اس میں کوئی اخراجات نہیں اٹھانے پڑتے ، جیسے بارانی یا نہری زمین تو اس میں عشر واجب ہوتا ہے ، جبکہ پیداوار اگر ایسی زمین کی ہے، جس کو مصنوعی ذرائع سے سیراب کیا جاتا ہوں جیسے، ٹیوب ویل وغیرہ، تو اس میں نصف عشر ، یعنی بیسواں حصہ واجب ہوگا۔
اور سوال میں مذکور نہری زمین چونکہ پہلی قسم میں سے ہے، لہذا اس میں عشر واجب ہوگا، البتہ اگر زمین سالانہ یا ماہانہ کرایہ پر دی گئی اور کرایہ دار اس میں کاشت کرے، تو اس میں عشر یا نصف کی ادائیگی کا شتکار (کرایہ دار) کے ذمہ لازم ہوگی، زمین کے مالک پر لازم نہ ہوگی۔
کما فی الدرالمختار: (وكذا) يجب العشر (الی قولہ) (و) تجب في (مسقي سماء) أي مطر (وسيح) كنهر (الی قولہ) (و) يجب (نصفه في مسقي غرب) أي دلو كبير (ودالية) أي دولاب لكثرة المؤنة الخ (2/325)۔
فیہ ایضاً: والعشر على المؤجر كخراج موظف وقالا على المستأجر كمستعير مسلم: وفي الحاوي وبقولهما نأخذ الخ (2/334)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله وبقولهما نأخذ) قلت: لكن أفتى بقول الإمام جماعة من المتأخرين كالخير الرملي في فتاواه وكذا تلميذ الشارح الشيخ إسماعيل الحائك مفتي دمشق وقال حتى تفسد الإجارة باشتراط خراجها أو عشرها على المستأجر كما في الأشباه، وكذا حامد أفندي العمادي وقال في فتاواه قلت: عبارة الحاوي القدسي لا تعارض عبارة غيره فإن قاضي خان من أهل الترجيح فإن من عادته تقديم الأظهر والأشهر وقد قدم قول الإمام فكان هو المعتمد وأفتى به غير واحد منهم زكريا أفندي شيخ الإسلام وعطاء الله أفندي شيخ الإسلام، وقد اقتصر عليه في الإسعاف والخصاف. اهـ.
قلت: لكن في زماننا عامة الأوقاف من القرى والمزارع لرضا المستأجر بتحمل غراماتها ومؤنها يستأجرها بدون أجر المثل بحيث لا تفي الأجرة، ولا أضعافها بالعشر أو خراج المقاسمة، فلا ينبغي العدول عن الإفتاء بقولهما في ذلك؛ الخ (2/334)۔
عشر کی رقم چچاز زاد اور پھوپھی کو دینا - بیت الخلاء میں وضو کرتے وقت دعائیں پڑھنا
یونیکوڈ عشر و خراج 0