(1) اگر نابالغ بچوں کو عمرے پر لے جانا ہو ساتھ ,کسی مجبوری کے تحت ,تو ان پر احرام کے قانون کیاہوں گے؟
(2)دوران ِعمرہ اگر حیض کے مسائل آجائیں تو خواتین کے بارے میں کیا احکام ہیں؟ آجکل حیض روکنے کی ادویات عام ہیں، کیا ان کا استعمال کیا جاسکتا ہے؟
(1)ناسمجھ بچوں کے لیے عمرہ کا احرام باندھنا لازم نہیں ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ بچے کا سرپرست اس کی طرف سے عمرہ کی نیت کرلے اور بچے کو بھی احرام کی چادریں پہنا دے ۔
(2)حالتِ حیض میں چونکہ طواف کرنا جائز نہیں ،اس لیے اگر عمرہ کے لیے جانے والی خاتون کو عمرہ کے طواف سے قبل حیض آجائے تو ایسی صورت میں اسے چاہیئے کہ حیض ختم ہونے کا انتظار کرے اور حیض ختم ہونے کے بعد عمرہ ادا کرے ،جبکہ حیض روکنے کے لیے مانعِ حیض ادویات کا استعمال اگر طبّی لحاظ سے مضر صحت نہ ہو تو شرعاً اس کی گنجائش ہے ۔
کما فی الرد تحت : (قوله بخلاف الصبي) لأن إحرامه غير لازم لعدم أهلية اللزوم عليه ولذا لو أحصر وتحلل لا دم عليه ولا قضاء ولاجزاء عليه لارتكاب المحظورات فتح اھ (2/446)۔
و فیه أیضاً : نقل بعض المحشين عن منسك ابن أمير حاج: لو هم الركب على القفول ولم تطهر فاستفتت هل تطوف أم لا؟ قالوا يقال لها لا يحل لك دخول المسجد وإن دخلت وطفت أثمت وصح طوافك اھ (2/519)۔
و فیه أیضاً تحت : (قوله وحل الطواف) ؛ لأن الطهارة له واجبة فیكره تحريما وإن صح كما فی البحر وغيره اھ (1 292)۔