(1) شوہر کے ذمہ کتنی رہائش واجب ہے ؟
(2) جب شوہر اپنے سسرال میں ہو پھر وہ سسرال چھوڑ دے ظلم ، ذلت اور ساس سسر کی طرف سے گالی گلوچ کی وجہ سے ، اور بیوی بھی یہ ہی کرتی رہے، اور وہ اپنی شوہر کی اتباع نہ کرے، بلکہ وہ اپنے شوہر کوہرقسم کی گالی گلوچ دے جیسا کہ اس کی والدہ دیتی ہے یا اس سے بھی سخت ، کیا اس جیسے عورت نافرمان شمار ہو گی ،یہاں تک کہ شوہر پر اس کی نان نفقہ واجب نہ ہو ؟
(1) واضح ہو کہ شوہر اگر والدین کے گھر میں ایک کمرہ، اٹیچ باتھ روم اور کچن کے ساتھ بیوی کو دیدے جس میں دیگر افراد کی آمدورفت اور دخل اندازی نہ ہو، اور وہ اپنا ضروری سامان اس میں بحفاظت رکھ سکے اور بوقت ضرورت آرام کر سکے، تو یہ شوہرکی ذمہ داریوں میں سے ہے ،جبکہ بیوی اگر شوہر کے بلانے کے باوجود بھی اس کے پاس نہ جائے، بلکہ اپنے والدین کے ساتھ رہے، تو وہ ایسی صورت میں ناشزہ ہو گی، اور اس کا نان نفقہ شوہر کے ذمہ لازم نہ ہو گا۔
كما في الدر المختار: (وكذا تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله) سوى طفله الذي لا يفهم الجماع وأمته وأم ولده (وأهلها) ولو ولدها من غيره (بقدر حالهما) كطعام وكسوة وبيت منفرد من دار له غلق. زاد في الاختيار والعيني: ومرافق، ومراده لزوم كنيف ومطبخ، وينبغي الإفتاء به بحر (كفاها) لحصول المقصود هداية اھ(3/ 599)
وفی ردالمحتار: سوى طفله الذي لا يفهم الجماع وأمته وأم ولده (وأهلها) ولو ولدها من غيره (بقدر حالهما) كطعام وكسوة وبيت منفرد من دار له غلق. زاد في الاختيار والعيني: ومرافق، ومراده لزوم كنيف ومطبخ، وينبغي الإفتاء به بحر (كفاها) لحصول المقصود هداية.(3/600)
وفی الدرالمختار: (لا) نفقة لأحد عشر(الی قوله) (خارجة من بيته بغير حق) وهي الناشزة حتى تعود(3/576)