(+92) 0317 1118263

احکام رمضان

سحری کے وقت لوگوں کو جگانے کے لئے سائرن بجانا

سحری کے وقت لوگوں کو جگانے کے لئے سائرن بجانا فتوی نمبر: 34522

الاستفتاء

میرا سوال ہے کہ ایسی نیکی جسے نہ کرنے سے گناہ نہ ہوتا ہو لیکن کرنے سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہو تو ایسی نیکی کرنا افضل ہے یا چھوڑنا؟ مثلاً آج کل مولوی صاحب سحری جگانے کیلئے دو بجے سائرن بجاتے ہے اور اس کے بعد مسلسل نعتیں اور اعلان ہوتا رہتا ہے کہ اب اتنا ٹائم رہ گیا وغیرہ، میرا گھر مسجد سے قریب ہونے کی وجہ سے بچے بھی اُٹھ جاتے ہیں اور میری نیند میں بھی خلل آتا ہے، رہنمائی فرمائیں

الجواب حامدا و مصلیا

سحری کے وقت لوگوں کو جگانے کیلئے سائرن بجاکر یا اعلانات کرکے سحری کیلئے جگانا کوئی لازم نہیں، پھر یہ اعلانات اس کثرت اور تسلسل کے ساتھ ہوں جو کسی مسلمان کیلئے تکلیف کا باعث ہوں تو اس کا ترک لازم ہے اس لئے مذکور مسجد کے امام اور انتظامیہ پر لازم ہے کہ اس سلسلہ کو بند کردیں بصورتِ دیگر سائل اسپیکر کے غلط استعمال پر ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کرسکتا ہے۔


فی الدّر: (بلا ایذاء) لأنہ سنۃ وترک الإیذاء واجب۔ (ج۲، ص۴۹۳)


وفی الشامیۃ: تحت (قولہ وترک الایذاء واجب) فلا یترک الواجب لفعل السنۃ۔ (ج۲، ص۴۹۴)واللہ اعلم