کیا فرماتے ہیں علماء اس مسئلے کے بارے میں کہ ہماری مسجد میں رمضان المبارک میں جو لوگ اعتکاف کرتے ہیں،تو ان کےلئے یہ ترتیب ہوتی ہےکہ اہلِ خیر حضرات ان کےلئے دس دن تک افطار اور ضیافت کا اہتمام کرتے ہیں،جسکے لئے مسجد میں روزانہ ایک بڑا دسترخوان لگایا جاتا ہے،اور کچھ لوگ اپنی ذمہ داری سے بخوشی ان کی خدمت میں حصہ لیتے ہیں،اسی طرح ایک دعوت کا اہتمام ختم القران کے موقع پر بھی ہوتا ہے،جس میں عام دعوت ہوتی ہے،اور ہرشخص کو اجازت ہوتی ہے،اور ان دعوتوں میں شوروشرابہ،مسجد کا صحن دریاں وغیرہ خراب ہوتی ہیں،اسی طرح بھاگ دوڑگویا ایک ہنگامہ ساکھڑا ہوجاتا ہے،اسکے بعد حلقہ بندی کرکے گپ شپ کی گویا مجلس کرتے ہیں،پھر اسکے بعد مسجد کی صفائی اہتمام سے کی جاتی ہے،جس میں ہر عام وخاص شریک ہوتا ہے،حتی کہ معتکفین حضرات بھی بھر پوردل جمعی سے شریک کار ہوتے ہیں،اور یہ سلسلہ سحری سے کچھ دیر قبل تک چلتا رہتا ہے،اور یہ ختم القرآن کی دعوت ستائیسویں شب کو ہوتی ہے،جس میں دعوت کی ابتدا سے اختتام تک وقت سحر ہو جاتا ہے،جس کی وجہ سے یہ رات عموماً معتکفین کی عبادت کے بجائے اور کاموں میں صرف ہونے کی بنا پر اعتکاف کا مقصد فوت ہوجاتا ہے،لیکن کچھ لوگ عبادت بھی کرتے ہیں،اب دریافت یہ کرنا ہے کہ کیا اس طرح کی دعوتوں کا اہتمام کرنا مسجد میں درست ہے؟کیا ایسا کرنے سے مسجد کا تقدس پامال نہیں ہوتا ؟ برائے کرم قرآن وسنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ؟
معتکف اور مسافر کے علاوہ دیگر لوگوں کےلئے مسجد میں کھانے،پینے کا اہتمام کرنا مکروہ ہے، لہذا رمضان المبارک میں روزہ داروں کےلئے مسجد کے اندر دعوتِ افطار کا اہتمام کرنا،یاختمِ قرآن کے موقع پر ایسی دعوتوں کا اہتمام کرنا جس سے مساجد کی تلویث ہوتی ہے،مسجد کے آداب کے خلاف ہے،جس سے احتر از لازم ہے۔
کمافي المشكاة:عن الحسن مرسلاً قال قال رسول الله صلى ال عليه وسلم:یاتي على الناس زمان يكون حد يثهم في مساجدهم في أمر دنياھم فلاتجالسوهم فليس لله فيهم حاجة رواه البیھقى اھ (1/71) ۔
وفي الشامية:تحت(قوله بأن يجلس لأجله) فإنه حينئذ لا يباح بالاتفاق لأن المسجد ما بني لأمور الدنيا. وفي صلاة الجلابي: الكلام المباح من حديث الدنيا يجوز في المساجد وإن كان الأولى أن يشتغل بذكر الله تعالى، كذا في التمرتاشي هندية وقال البيري ما نصه: وفي المدارك - {ومن الناس من يشتري لهو الحديث} [لقمان: 6] المراد بالحديث الحديث المنكر كما جاء «الحديث في المسجد يأكل الحسنات كما تأكل البهيمة الحشيش» ، انتهى. فقد أفاد أن المنع خاص بالمنكر من القول، أما المباح فلا اھ(1/662)۔