زید کہتا ہے کہ بعض صحابہ کرامؓ سے ٹوپی لگائے بغیر بھی نماز پڑھنا ثابت ہے، جبکہ میری معلومات کے مطابق بلاوجہ کُھلے سر نماز پڑھنے کو فقہاء کرام نے مکروہ قرار دیا ہے، اللہ تعالیٰ قرآن وسنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
سوائے حالتِ احرام اور پوری زندگی میں ایک دوبار کے مستثنیٰ صورتوں کے نبی کریمﷺ اور صحابہؓ وتابعینؒ کی سنت مستمرہ یہی ہے کہ وہ ٹوپی پہن کر یا عمامہ باندھ کر نماز ادا فرمایا کرتے تھے اور کتبِ فقہ سے ٹوپی پہن کر نماز پڑھنے کا یہی حکم ثابت ہے، لہٰذا کُھلے سر نماز پڑھنا مکروہ اور خلافِ ادب ہے، اس لیے قصداً بلاٹوپی لگائے نماز پڑھنا اور اسے ضروری سمجھنا اور صرف اس طرز کو ہی سنت قرار دیکر ٹوپی پہن کر نماز پڑھنے والوں کو بُرا سمجھنا جیسا کہ بعض اہل حدیث کہلانے والے لوگوں کا یہی طرزِ عمل ہے جو قرآن وسنت سے ناواقفیت پر مبنی اور مسلمانوں میں انتشار پھیلانے کی مترادف ہے، جس سے احتراز اور علم الروایۃ والدرایۃ کا حصول چاہیے۔
ففی کنز العمال:کان یلبس قلنسوة بیضاء اھ(۷/ ۴۶)
وفی الدر المختار:(وصلاته حاسرا) أي كاشفا (رأسه للتكاسل)ولا بأس به للتذلل، وأما للإهانة بها فكفر ولو سقطت قلنسوته فإعادتها أفضل اھ(1/ 641)
وفی الفتاوى الهندية: ولا بأس بلبس القلانس وقد صح أنه - صلى الله عليه وآله وسلم - كان يلبسها،كذا في الوجيز للكردري.(5/ 330)
وفی صحيح البخاري: وقال الحسن: «كان القوم يسجدون على العمامة والقلنسوة ويداه في كمه»(1/ 86)
وفی صحيح البخاري: ووضع أبو إسحاق: «قلنسوته في الصلاة ورفعها» اھ(2/ 62)
وفی كنز العمال:كان يلبس القلانس تحت العمائم وبغير العمائم اھ(7/ 121)
جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہیں؟ علم میں بخل ,حسد و غرور کرنا, بغير استاد تحصيل علم
یونیکوڈ مکروھات نماز 0