میں اکثر آدھی آستین والی شرٹ میں نماز پڑھتا ہوں، اس میں کچھ حرج تو نہیں؟
بلاوجہ شرعی اس طرح کے لباس میں نماز مکروہ ہے، لہٰذا پورے آستین والی شرٹ میں نماز کا اہتمام کرنا چاہیئے۔
ففی الفتاوى الهندية: ولو صلى رافعا كميه إلى المرفقين كره كذا في فتاوى قاضي خان اھ(1/ 106)
وفی حاشية ابن عابدين: وقيد الكراهة في الخلاصة والمنية بأن يكون رافعا كميه إلى المرفقين وظاهره أنه لا يكره إلى ما دونهما. قال في البحر: والظاهر الإطلاق لصدق كف الثوب على الكل اهـ (1/ 640) واللہ أعلم بالصواب!
جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہیں؟ علم میں بخل ,حسد و غرور کرنا, بغير استاد تحصيل علم
یونیکوڈ مکروھات نماز 0