میری ایک شخص سے بات ہوئی وہ کہتا ہے کہ جب یہاں لوگ حرام مال سے حج کرتے ہیں تو اس کے اوپر کوئی بات نہیں کرتا اور اسے حلال سمجھا جاتا ہے، لیکن اگر خنز یرکوتکبیر پڑھ کر ذبح کیا جائے تو وہ حلال کیوں نہیں ہوتا ؟ میرا سوال ہے کہ دونوں کاموں میں کوئی فرق ہے؟ یا دونوں گناہ ایک جیسے ہیں؟
اس بات پر سب علماء کا اتفاق ہے کہ جس طرح مال حرام کا دیگر امور کے لیے استعمال کرنا شرعاً نا جائز اور حرام ہے، اسی طرح اس کے ساتھ حج کرنا بھی جائز نہیں، بلکہ اس کے لیے بھی حلال مال کا ہی انتظام کرنا چاہیئے ، لیکن اگر کوئی فرد مال حرام سے ہی اخرجات حج ادا کر کے حج کر لیتا ہے،تو اسطرح کرنے سے اگر چہ وہ مال حرام کا استعمال کرنے کی وجہ سے گناہ گار ضرور ہوگامگر افعال حج چونکہ بدنی اعمال ہیں ، اس کو جسمانی طور پرادا کیا جاتا ہے، لہذا حج کے درست ہونے کا حکم لگایا جاتا ہے، اور خنزیر چونکہ قرآن کریم کے صریح حکم کے مطابق حرام اور نجس العین ہے، اور حرام چیز پر بسم اللہ پڑھنا دوہرا حرام ہے ، محض تکبیر پڑھنے کی وجہ سےاس کو حلال قرار دینے کے درپے ہونا نا واقفیت پر مبنی ہے، لہذا سائل اور اس کے دوستوں کو اپنی فہم سے بالا تر علمی بحثوں میں پڑنے سے احتراز لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالی : حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ اھ (المائدہ /3)۔
و فی الہندیة : ويجتهد في تحصيل نفقة حلال فإنه لا يقبل الحج بالنفقة الحرام مع أنه يسقط الفرض معها، وإن كانت مغصوبة كذا في فتح القدير.إذا أراد الرجل أن يحج بمال حلال فيه شبهة فإنه يستدين للحج ويقضي دينه من ماله كذا في فتاوى قاضي خان في المقطعات، اھ (1/220)۔
پروندوں کی خوراک کے کیڑے (Meat Warm)کوپالنے اور کاروبار کرنے کی شرعی حیثیت
یونیکوڈ حلال و حرام جانور 0