میری نظر میں ایک آدمی ہے، جس نے اپنے ماضی میں بہت سی بد فعلیاں کی ہیں، اب وہ اپنی اصلاح چاہتا ہے تو اس کا کیا طریقۂ کار ہوگا کہ اللہ کے حضور کس طرح معافی مانگی جائے اور اس کا کیا کفارہ ہو گا ؟
جس شخص سے گناہ ہوا ہے، وہ اس گناہ سے نکلنا چاہتا ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ فوراً اس گناہ کو چھوڑ دے اور دل سے اس گناہ پر ندامت کر کے تو بہ کرے اور آئندہ اس گناہ کو نہ کرنے کا پختہ عزم کرے، اگر وہ گناہ حقوق العباد میں سے ہو تو اس حق کی ادائیگی اور متعلقہ شخص سے معافی مانگنا بھی لازم ہے۔
کما في مشكاة المصابيح: وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن الله يقبل توبة العبد ما لم يغرغر"۔ رواه الترمذي وابن ماجه(2/724)
و في رد المحتار: (قوله بل المطهر التوبة) فإذا حد ولم يتب يبقى عليه إثم المعصية. وذهب كثير من العلماء إلى أنه مطهر، وأوضح دليلنا فی النهر. (إلى قوله) وفي البحر عن الظهيرية: رجل أتى بفاحشة ثم تاب وأناب إلى الله تعالیٰ فإنه لا يعلم القاضي بفاحشته لإقامة الحد عليه؛ لأن الستر مندوب إليه اهـ (4/4)