جناب مفتی صاحب یہ بتا دیں کہ ہماری وراثت کی تقسیم کے لیے بنائی جانے والی پنچایت میں دونوں فریقین کی طرف سےایک ایک وکیل مقرر ہوا ، کیا وکیل کے ہوتے ہوئے خود پنچایت والے بھی کسی فریق کی طرف سے خود وکیل مقرر ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ بلکہ اس فریق کے وکیل کو بھی نہ پتا ہو، مطلب یہ کہ کیا خود منصف بھی وکیل مقرر ہو سکتا ہے؟
وراثت کی تقسیم کے لیے شرعی قانون وراثت کافی ہے، اس کے لیے پنچایت کی ضرورت نہیں، بلکہ معتبر دارالافتاء سے فتویٰ لے کر اس کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔تاہم فتوی پر عملدرآمد کرانے کے لئے پنچائیت کی ضرورت ہوتو پنچائیت کے سپرد یہ کام کیا جاسکتا ہے ۔ اور پھر پنجائیت والے فریقین کی اجازت سے وکیل بھی بن سکتے ہیں۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2