۱۔ السلام علیکم ورحمۃ الله! میرا سوال یہ ہے کہ حاملہ ہونے کے بعد کب تک ہمبستری کر سکتے ہیں؟
۲۔ کیا عورت اپنے شوہر کے عضو مخصوص کو ہاتھ سے سہلا سکتی ہے اور اُس کی مشت زنی کر سکتی ہے، یا صرف سہلا سکتی ہے ؟
۱۔ حالتِ حمل میں جماع کرنا ناجائز اور منع نہیں، البتہ ساتویں مہینہ کے بعد اور شروع کے تین ماہ سے پہلے ہمبستری طبی لحاظ سے نقصان دہ ہو سکتی ہے، اس لیے اس میں احتیاط کرنی چاہیے، کیونکہ اس سے بچے کو نقصان کا اندیشہ ہے۔
۲۔ عورت اپنے شوہر کے عضو خاص کو سہلا سکتی ہے، لیکن بلا ضرورت مشت زنی کرانا مکروہ ہے، البتہ کسی مجبوری بیماری وغیرہ کی وجہ سے بیوی کے ساتھ مباشرت ممکن نہ ہو اور شوہر کو غلبہ شہوت کی وجہ سے کسی گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں عورت مشت زنی کروا سکتی ہے۔
ففی مشكاة المصابيح: وعن سعد بن أبي وقاص: أن رجلا جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني أعزل عن امرأتي. فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لم تفعل ذلك؟» فقال الرجل: أشفق على ولدها. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو كان ذلك ضارا ضر فارس والروم». رواه مسلم اھ (2/ 952)
وفي مرقاة المفاتيح: (على ولدها) أي: الذي في البطن لئلا يصير توأمين فيضعف كل منهما، أو على ولدها الذي ترضعه ; لما سيأتي أن الجماع يضره اھ (5/ 2091)
وفی الدر المختار: في الجوهرة: الاستمناء حرام، وفيه التعزير. ولو مكن امرأته أو أمته من العبث بذكره فأنزل كره ولا شيء عليه اھ (4/ 27)