کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں (۱) ایک شخص کی بیوی کسی دوسرے شخص کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی، کیا پہلے شوہرکا نکاح باقی رہے گا یا نہیں اور تجدید نکاح کی ضرورت ہے یا نہیں؟
(۲) بعض علاقوں میں ایسی صورت میں چونکہ پہلا شوہر بیوی سے بدظن ہوتا ہے تو لوگ ان کے درمیان صلح کراتے ہیں اس طور پر کہ وہ آدمی (یعنی جس کے ساتھ اس کی بیوی بھاگ گئی ہے) اپنی کوئی بہن یا اور کوئی رشتہ دار اس شخص کو دے گا (یعنی عورت کے شوہر کو) اور اس کے بدلہ میں وہ شخص اس عورت کو طلاق دے گا کیا صلح کی یہ صورت جائز ہے؟
(۳) بعض دفعہ اسلامی قانون نافذ نہ ہونے کی وجہ سے ایسی عورت کو اس کا بھائی، والد یا شوہر یا کوئی اور رشتہ دار قتل کردیتے ہیں یہ عمل جائز ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں شخص مذکور کی بیوی کے کسی دوسرے شخص کے ساتھ بھاگ جانے سے پہلے نکاح پر تو کوئی اثر نہیں پڑا بلکہ وہ حسب سابق قائم ہے اور تجدید نکاح کی ضرورت نہیں۔
البتہ اس قبیح فعل کی وجہ سے وہ شرعاً سخت گناہ گار ہوئی ہے جس کی وجہ سے مواخذہ اُخروی کی مستوجب ہے، لہٰذا اس کو چاہئے کہ اپنے کئے پر بصدقِ دل توبہ واستغفار کرے، اور آئندہ کیلئے ایسے ناجائز اُمور سے مکمل احتراز بھی کرے۔
(۲،۳) مذکورہ دونوں اُمور شرعاً ناجائز ہیں ان سے احتراز لازم ہے، البتہ مذکور عورت اور بھگاکر لے جانے والے مرد کے خلاف بذریعہ عدالت تعزیر جاری کی جاسکتی ہے اور اسے آئندہ کیلئے اپنے نکاح میں رکھنے میں بھی شرعاً کوئی حرج نہیں۔
وفی الشامیة: والمزنی بہا لا تحرم علی زوجہا نعم لو وطئھا بشبهةٍ وہب علیہا المعرة وحرم علی الزوج وطؤہا ویمکن حل ما فی النتف علی هذا. اهـ (ج۳، ص۵۰)
وفیها ایضًا: (قوله نكاحًا فاسرًا) هی المنكوحة بغیر مشهود ونكاح إمرأة الغیر بلا علم بانها متزوجة، ونكاح المحارم مع العلم بعدم الحل فاسر عنده خلافًا لهما. (ج۳، ص۵۱۶)
وفیها ایضًا: الحدیث ’’إن رجلًا أتی إلی النبی ﷺ فقال یا رسول الله ان امرأتی لا ترفع یر لاسٍ فقال علیه الصلاة والسلام طلقها فقال الٰی احبها وهی، حمیلة فقال علیه الصلاة والسلام استمتع بها‘‘. (ج۳، ص۵۰)
وفی الدر: واما بعده فلیس ذالك لغیر الحاكم. (ج۴، ص۶۵)
وفی الشامیة: ’’قوله واما بعده‘‘ تصریح .......
قال فی القنیة لأنه لو عزره جال كونه مشغولًا بالفاحشة فله ذالك لأنه نهی عن المنكر وكل واحد مأمور به، وبعد الفراغ لیس بنهی لأن النهی عما مضی لا یتصور فیتموص تعزیرًا وذالك إلی الإمام اهـ، وذكر قبله أن للمحتسب ان یحزر المعزر إن عزره بعد الفراغ منها. (ج۴، ص۶۵)
شادی شدہ عورت اگر کسی کے ساتھ بھاگ کر چلی جائے تو اس کا نکاح ختم ہو جاتاہے؟نیز اس عورت کو ازخود قتل کیا جاسکتا ہے ؟
یونیکوڈ تفریق و تنسیخ 1