(۱)۔ عورت کیلئے بطورِ احرام کسی طرح کپڑا باندھنا چاہیے کیا برقعہ والا کوٹ اور اس کے اوپر والا کپڑا کافی ہے ؟
(۲)۔ قیامِ مکہ کے دوران اگر کسی صاحب سے ملنے کے لئے جدہ یا کسی اور شہر میں جائیں تو کیا مکہ واپسی پر احرام باندھنا اور عمرہ کرنا ضروری ہے؟
(۱)۔ عورت کا احرام بھی مرد کی طرح ہی ہے مگر اس کے لئے احرام میں سلے ہوئے کپڑے پہننا بھی جائز اور درست ہے البتہ اس پر یہ بھی لازم ہے کہ سر ڈھانکنے اور چہرے کا پردہ اس طور پر کرے کہ کپڑا منہ کو مس نہ کرسکے۔
(۲)۔ جی ہاں! اس کیلئے واپسی پر دخول مکہ کیلئے احرام باندھنا اور عمرہ کرنا لازم ہے ورنہ دم لازم ہوگا۔
کمافی غنیة الناسك: هی فیه کالرجل غیر انها لا تکشف رأسها وتکشف وجهہا والمراد بکشف الوجه عدم مماسة شی له فلذلك یکره لها ان تلبس البرقع لان ذلك یماس وجهها کذا فی المبسوط فلو سدلت علیه شیئًا وجافته عنه جاز من حیث الإحرام لعدم کونه سترًا والا فسدل الشیئ مستحب اھ (ص۷۹)-
وتلبس من المخیط ما بدأ لها کالدرع والقمیص والسراویل والخفین اھ (ص۴۹)-
وفیہ ایضا: ومن دخل مکة او الحرم بلا احرام فعلیه احد النسکین (۳۱)-
وفی السراجیة: الآفاقی اذا اراد دخول مکة بحاجة او زیارة البیت یلزمه اما حجة او عمرة , لا یدخلها الا محرم باحد هذه الاحرامین (ص۳۴) -