اگر کوئی شخص یہ یقین رکھتا ہو کہ شیعہ سچے مسلمان نہیں ہیں اور وہ کافر ہیں تو کیا اُن کے لؒنچ، ڈِنر، ولیمہ وغیرہ کیلیے دعوت نامہ قبول کرنا جائز ہے؟ جبکہ یہ بھی معلوم ہو کہ کھانا انہوں نے خود نہیں ، بلکہ پیشہ ور پکوانوں سے پکوایا گیا ہے اور ڈِنر بھی ریسٹورنٹ،آفس یا کینٹین وغیرہ میں ہو۔
ایسے لوگوں کی دعوت یا اُن کے دیگر پروگراموں میں شرکت بلاشبہ محلِ تہمت ہے، جس سے بہر صورت احتراز ہی چاہیے۔
ففی الهندية: ولا بأس بطعام المجوس کله إلّا الذبیحة فإن ذبیحتهم حرام ولم یذکر محمد رحمه اللہ تعالٰی الأکل مع المجوسی ومع وغیرہ من أهل الشرك أنه هل یحل أم لا وحکی عن الحاکم الامام عبد الرحمٰن الکاتب أنه إن ابتلی به المسلم مرة أو مرّتین فلا بأس به وأما الدوام علیه فیکرہ اه (ج۵، ص۳۴۷)
وفیها أیضاً: ولابأس بالذهاب إلی ضیافة أهل الذمة الخ (۵/۳۴۷)
وفی کشف الخفاء: ’’اتقوا مواضع التهم‘‘ (إلی قوله) ورواہ الخرائطی فی مکارم الأخلاق مرفوعًا بلفظ ’’من أقام نفسه مقام التهم، فلا یلومنّ من أساء الظن به‘‘ اه (ج۱، ص۴۵) بحواله فتاویٰ محمودیه: ج۶، ص۱۱۵) واللہ اعلم بالصواب!