لفظ "مولی" کے معنی کیا ہیں عام طور پر لوگ اس لفظ کو اللہ جل جلالہ کے لیے اور کچھ لوگ حضرت علیؓ کے لیے استعمال کرتے ہیں، کیا اس لفظ کو اللہ کے لیے استعمال کرنا درست ہے یا ’’مولیٰ‘‘ حضرت علیؓ کے نام کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے؟
واضح ہو کہ مولی عربی زبان کا لفظ ہے لغوی اعتبار سے لفظ مولی بمعنی رب ، مددگار، آقا، سردار ، رہنما، غلام اور نوکر وغیرہ اور کئی مختلف متضاد معانی میں مستعمل ہے جو ہر عبارت میں سیاق و سباق اور متعلقہ شخصیت کی حیثیت کے اعتبار سے موقع و محل کی مناسبت سے متعین ہوتے ہیں، چنانچہ سورہ بقرہ کی آخری آیت میں (انت مولانا) میں اللہ تعالٰی کے لیے بمعنی کارساز یا متولی امور کے لیے مستعمل ہے اور احادیث مبارکہ میں مثلاً صحیح بخاری (۱/ ۵۲۸) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید کے بارے میں فرمایا ’’انت اخونا ومولانا‘‘ اور حضرت علیؓ کے بارے میں بھی ایک صحیح حدیث میں منقول ہے کہ ان کے پاس ایک جماعت آئی اور کہنے لگی السلام عليك يا مولانا ( مرقاۃ: ۱۰/ ۴۷۶ ) ان مواقع میں سے پہلے میں آزاد کردہ غلام اور دوسرے میں سردار اور بڑے کے معنی میں ہے اور علماء کے لیے عموماً احترام کے طور پر بڑے اور سردار کے معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے۔
لہذا حضرت علیؓ نے یا دوسرے کسی شخص مثلاً علماء کرام کو اس معنی (سردار، بڑا) میں مولی کہنا تو بلا شبہ جائز اور درست ہے، مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مافوق الاسباب مشکل کشا کہنا اور ان جیسے الفاظ سے پکارنا اس عقیدہ اور نظریے کی بنا پر ہو کہ وہ ہماری ہر مشکل کو آسان کرنے والے ہیں اور ہر جگہ حاضر و ناظر بھی ہیں تو یہ کھلا ہوا شرکیہ عقیدہ ہے جو کہ واجب الاحتراز ہے۔
كما في صحيح البخاري: باب مناقب زيد بن حارثة مولى النبي صلى الله عليه وسلم: وقال البراء: عن النبي صلى الله عليه وسلم: «أنت أخونا ومولانا» اھ (۱/ ۵۲۸)
و في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: و في النهاية: المولى يقع على جماعة كثيرة فهو الرب والمالك والسيد والمنعم والمعتق والناصر والمحب والتابع والخال وابن العم والحليف والعقيد والصهر والعبد والمعتق والمنعم عليه، وأكثرها قد جاءت في الحديث فيضاف كل واحد إلى ما يقتضيه. (9/ 3937)
وفيها ايضا : و في الرياض عن رباح بن الحارث قال: جاء رهط إلى علي بالرحبة فقالوا: السلام عليك يا مولانا، فقال كيف أكون مولاكم وأنتم عرب؟ قالوا: سمعنا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول يوم غدير خم: " «من كنت مولاه فعلي مولاه» " (9/ 3944) والله اعلم بالصواب