کیا شیعہ کو ’’السلام علیکم‘‘ کہنا جائز ہے یا نہیں اور اُن کے ساتھ تعلقات رکھنا کیساہے؟
شیعہ وغیرہ کو ابتدا بالسلام سے اگر اس کا اکرام وتعظیم مقصود ہو تو یہ مکروہ ہے، اور اگر ترکِ سلام کی وجہ سے اُن کے بغض ودشمنی کا خطرہ ہو تو دل میں اُن کو اسلام کی تعلیمات سے متاثر کرنے اور دین کی محبت والفت پیدا کرنے کیلیے سلام کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
جبکہ شیعوں سے تعلقات رکھنے میں تفصیل یہ ہے کہ شیعوں کے مختلف فرقے ہیں اور ہر فرقہ اپنے عقائد ونظریات کی بناء پر حکم بھی مختلف رکھتا ہے، پس جس فرقہ کے عقائد یہ ہوں کہ حضرت عائشہؓ پر لگائے جانے والی تہمت درست تھی یا حضرت جبرئیل علیہ السلام کے وحی لانے میں غلطی ہو گئی یا حضرت علیؓ کی الوہیت کا قائل ہو یا حضرت ابوبکر صدیقؓ کی صحابیت کا منکر ہو یا اس قسم کا کوئی اور مخالفِ قرآن صریح کفریہ عقیدہ رکھتا ہوتو وہ بلاشبہ کافر ہے۔اور ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے کی قطعاً اجازت نہیں، اس کے علاوہ دیگر فرقوں کے کفر میں اختلاف ہے، ان کے ساتھ اگرچہ معاملات کرنے کی اجازت ہے، مگر اس سے بھی احتراز ہی بہتر ہے۔
في الدر المختار: ویسلم المسلم علی ٲهل الذمة لو له حاجة ٳلیه، وٳلا کرہ، ھو الصحیح اھ (۶/۴۱۲)۔
وفي حاشية ابن عابدین : نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن اھ (۴/۲۳۷)۔
وفي ٲحکام القرآن للتھانوي: المعاملة مع الکفار علی ثلثة ٲنحاء، ٲحدھا: الموالاة، اي المواداة، والثاني: المداراة، اي ٳظھار حسن الخلق لھم، والثالث: المواساة ٲي ٳیصال النفع ٳلیھم باعطاء المال ونحوہ، ٲما الموالاة فلا تجوز بحال(ٳلی قوله)وٲما المداراة، فتجوز في مواضع ثلثة، الاول: لدفع الضرر، والثاني: لمصلحة الکافر في دینه، والثالث: لاکرامه ٳذا کان ضیفا(ٳلی قوله)ٲما المواساة فلا تجوز لاھل الحرب، وتجوز لغیرھم من ٲھل الذمة، ومن ھو مثلھم اھ (۲/۱۵) واللہ أعلم!