محترم مفتی صاحب! کیا مشرک اور بدعتی کے ہاتھ کا ذبیحہ حرام ہے؟ کیا اہلِ قرآن، اہلِ کتاب کے زمرے میں آتے ہیں؟ اور اگر کوئی بندہ پاکستان کے مشرک اور بدعتی کے ہاتھ کا ذبیحہ، اہل کتاب کا ذبیحہ سمجھ کر کھاتا ہے تو اس کے ایمان کے بارے میں فتویٰ صادر فرمائیں، کیا ایسے بندے کی امامت جائز ہوگی؟ آپ کے فتویٰ کا منتظر!
منکرین حدیث جو اہل قرآن کہلاتے اسی طرح مشرکین اگر اہلِ کتاب میں سے نہ ہوں تو ان کے ہاتھ کا ذبیحہ کھانا حرام ہے، البتہ مبتدع اگر شرعی طریقے پر ذبح کرے تو اس کا کھانا جائز اور حلال ہے۔
فی النتف فی الفتاویٰ: فان ذبح کل مسلم وکل کتابی حلال رجلًا کان اونثی حرًّا کان أو عبدًا جنبًا کان أو طاہرًا۔ الخ (ص۱۴۷)
قال اللہ تعالیٰ: وطعام الذین اوتوا الکتاب حل لکم وطعامکم حل لهم۔ الآية (سورۃ المائدۃ: ۵) واللہ اعلم بالصواب!
پروندوں کی خوراک کے کیڑے (Meat Warm)کوپالنے اور کاروبار کرنے کی شرعی حیثیت
یونیکوڈ حلال و حرام جانور 0