(۱) حضرت صاحب! شیعہ کے بارے میں آپ کا کیا فتویٰ ہے وہ مسلم ہے کہ نہیں؟
(۲) قہوہ خانہ جائز ہے؟ کیا فتاویٰ رشیدیہ میں جائز لکھاہے؟
(۳) اللہ کے نیک ہستیوں کی قبروں پر جانا یعنی مزارات پر جانا گناہ ہے؟
شیعوں کے مختلف فرقے ہیں اور ہر فرقے کے عقائد مختلف ہیں، اس لیے شیعہ کو کافر قرار دینے میں تفصیل ہے وہ یہ ہے کہ جس شیعہ کے عقائد ونظریات یہ ہوں، مثلاً حضرت علیؓ کو خدا مانتا ہو یا قرآن کریم میں تحریف کا قائل ہو یا حضرت جبرئیل علیہ السلام کے وحی لانے میں غلطی کرنے کا عقیدہ رکھتاہو یا حضرت عائشہؓ پر لگائے جانے والی تہمت کو سچا مانتا ہو یا حضرت ابوبکر صدیقؓ کی صحابیت کا منکر ہو یا اس قسم کا کوئی اور مخالفِ قرآن صریح کفریہ عقیدہ رکھتا ہوتو وہ بلاشبہ کافر ہے۔البتہ جو شیعہ کسی قسم کا کوئی صریح کفریہ عقیدہ نہ رکھتا ہو،لیکن صحابہ کرامؓ کو بر بھلا کہتاہو یا تبرا بازی وغیرہ کرتا ہو تو ایسے شیعہ کے کفر میں اختلاف ہے اور جو شیعہ حضرت علیؓ کو دیگر خلفاء ثلاثہ پر محض فضیلت دیتاہو، وہ اگرچہ کافر تو نہیں، مگر فاسق وفاجر ضرور ہے، البتہ ان کے ساتھ معاملات رکھنے کی گنجائش ہے، مگر اس سے بھی احتراز بہر حال بہتر وفضل ہے۔
(۲) قہوہ خانہ جہاں چائے یا قہوہ بناکے لوگوں کو پیش کیا جاتا ہے, اگر اس میں دوسرے منکرات کا ارتکاب نہ کیا جاتا ہو تو اس کے جائز ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔
(۳) مزارات یعنی قبروں کے زیارت کیلیے جانا جائز، بلکہ مندوب اور مستحسن ہے، لیکن وہاں جاکے دوسرے منکرات، مثلاً صاحبِ قبر سے اپنی حاجات مانگنا یا قبر پر سجدہ وغیرہ کرنا اس کا طواف کرنا درست نہیں، اس سےا حتراز لازم ہے۔
وفي حاشية ابن عابدین: نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن اھ (۴/۲۳۷)۔
وفیه ٲیضا: أن الرافضي إذا كان يسب الشيخين ويلعنهما فهو كافر، وإن كان يفضل عليا عليهما فهو مبتدع (ٳلی قوله) وسب أحد من الصحابة وبغضه لا يكون كفرا اھ (۴/۲۳۷)۔
فى تنوير الأبصار: صح بیع غیر الخمر اھ (۶/۴۵۴)۔
وفي الفتاوی الشامية: لأن الفساق یجتمعون علی ھذہ الأشربة، ویقصدون اللھو والسکر بشربھا اھ (۶/۴۵۵)۔
وفي الفتاوی الشامية: تحت (قولہ: وبزیارۃ القبور الخ)ٲي لاباس بھا، بل تندب اھ (۲/۲۴۲)۔
وفي الفتاوی الھندية: وٳخراج الشموع ٳلی رٲس القبور في اللیالي الأول بدعة اھ (۵/۳۵۱)۔
وفیها أیضا: ولایمسح القبر ولا یقبله اھ (۵/۳۵۱)۔ واللہ اعلم بالصواب!