میری کمپنی ایک دوسری کمپنی کو 12 سال پہلے سروس فراہم کرتی تھی، ان کی مالیتی صور ت حال انتہائی خراب ہوگئی، اور ان کا کاروبار بھی بند ہو گیا تھا،جس وقت کاروبار بند ہوا تھا ،کمپنی کے ذمہ ایک لاکھ پچیس ہزار ڈالر ادا کرنا باقی تھے،اب تک انہوں نے کچھ بھی ادا نہیں کیا، کمپنی کے مالک تین بھائی تھے، وہ سب آج کل یو کے پاکستان اور کینیڈا میں کاروبار کر رہے ہیں، جب بھی میں اُن سے پوچھتا ہوں ،تو ہمیشہ وعدہ کرتے ہیں کہ ہم ادا کریں گے، لیکن اب تک کچھ ادا نہیں کیا ، لیکن وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ مر جائیں گے ،تو ان کی ذمہ داری ان کے بچوں کی طرف منتقل نہ ہوگی ، ایسی صورت حال میں اللہ تعالی اور قرآن کا کیا حکم ہے ؟ اور ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں ان کو کن نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا؟
جب مذکور مالیت واقعۃً سائل کی کمپنی کی خدمات فراہم کرنے کے عوض میں مذکور تینوں بھائیوں پر اور ان کی کمپنی کے ذمہ واجب الاداء ہے، تو ان پر لازم ہے کہ سائل کو اس کا حق شرعی دے کر مواخذہ دنیوی و اخروی سے سبکدوشی کی فکر کریں، اور اسے معمولی نہ سمجھیں،جبکہ سائل کا حق ان تینوں کے انتقال کی صورت میں بھی ساقط نہیں ہو سکتا، بلکہ یہ اس کمپنی کے ذمہ دین شمار ہوگا ، اور تقسیمِ وراثت سے قبل اُس کی ادائیگی لازم ہوگی۔ اور سائل اپنے حق کی وصولیابی کے لیے علاقائی جرگہ اور قانونی چارہ جوئی کا بھی مجاز ہے۔
كما في مشكاة المصابيح: وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «نفس المؤمن معلقة بدينه حتى يقضى عنه» . رواه الشافعي وأحمد والترمذي وابن ماجه والدارمي اھ (2/ 880)۔
و في الدر المختار: ( يبدأ من تركة الميت) (إلى قوله) بتجهيزه (إلى قوله) (ثم) تقدم (ديونه التي لها مطالب من جهة العباد) اھ (6/ 760)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2