اسلامی نقطۂ نظر سے بکرے کی خصیتین اور اس کی Stomachیعنی اوجھڑی کھانے کے اعتبار سے حلال،حرام یا مکروہ ہے؟کیونکہ آج کل پاکستان کے ہر بازار میں ان اشیاء کی سینکڑوں دکانیں پائی جاتی ہیں۔
سوال میں مذکور Stomach سے سائل کی مراد اگر اوجھڑی ہے تو اس کے کھانے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے،بلکہ اچھی طرح صاف ستھرا کرنے کے بعد اس کا کھانا جائز اور حلال ہے،البتہ کسی بھی حلال جانور کے خصیتین کا کھانا مکروہِ تحریمی ہے،جس سے احتراز لازم ہے۔
کمافی الدرالمختار: (كره تحريما) وقيل تنزيها والأول أوجه (من الشاة سبع الحياء والخصية والغدة والمثانة والمرارة والدم المسفوح والذكر) اھ(6/749)۔
وفی الھندیة: وأما بيان ما يحرم أكله من أجزاء الحيوان سبعة: الدم المسفوح والذكر والأنثيان والقبل والغدة والمثانة والمرارة، كذا في البدائع اھ(5/290)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما بيان ما يحرم أكله من أجزاء الحيوان المأكول فالذي يحرم أكله منه سبعة: الدم المسفوح، والذكر، والأنثيان، والقبل، والغدة، والمثانة، والمرارة لقوله عز شأنه {ويحل لهم الطيبات ويحرم عليهم الخبائث} [الأعراف: 157] وهذه الأشياء السبعة مما تستخبثه الطباع السليمة فكانت محرمة اھ(5/61)۔
پروندوں کی خوراک کے کیڑے (Meat Warm)کوپالنے اور کاروبار کرنے کی شرعی حیثیت
یونیکوڈ حلال و حرام جانور 0