بسم اللہ الرحمن الرحیم
محترم مفتی صاحب/دارالافتاء، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
عرض ہے کہ ہمارے علاقے میں بجلی کے غیر قانونی کنکشن، جسے عام طور پر "کنڈا لگانا" کہا جاتا ہے، کا رواج پایا جاتا ہے۔ بعض افراد بجلی کے محکمے کی اجازت اور قانونی کنکشن کے بغیر براہِ راست بجلی کی تار سے کنکشن حاصل کرکے بجلی استعمال کرتے ہیں۔
ازراہِ کرم قرآن و سنت اور شرعی اصولوں کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ:
کیا بجلی کا کنڈا لگا کر بجلی استعمال کرنا شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟
نیز اگر اس عمل میں بجلی کے محکمے کی اجازت کے بغیر بجلی استعمال کی جائے اور اس کی قیمت بھی ادا نہ کی جائے تو اس کا شرعی حکم کیا ہوگا؟
براہِ کرم اس مسئلے کا تفصیلی شرعی حکم تحریر فرما دیں تاکہ ہم اس کے مطابق عمل کر سکیں۔
جزاکم اللہ خیراً
والسلام
واضح ہو کہ بجلی کے محکمے کی اجازت اور قانونی کنکشن کے بغیر براہ راست بجلی کی تار سے کنکشن حاصل کرکے بجلی استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، بلکہ یہ گناہ کبیرہ ہے اس لیے اس عمل سے فوراً اجتناب کرنا لازم ہے۔اور اب تک اس طریقہ پر جتنی بجلی استعمال کی گئی ہے اس کا تخمینہ لگا کر اس کی قیمت متعلقہ ادارے کو بل کی صورت میں ادا کرنے کا اہتما م چاہیئے ، تاکہ اخروی پکڑ سے سبکدوش ہوسکے ۔
کما فی الشامیۃ : "كتاب السرقة (هي) لغة أخذ الشيء من الغير خفية.
قال القهستاني: وهي نوعان؛ لأنه إما أن يكون ضررها بذي المال أو به وبعامة المسلمين، فالأول يسمى بالسرقة الصغرى والثاني بالكبرى، بين حكمها في الآخر؛ لأنها أقل وقوعا وقد اشتركا في التعريف وأكثر الشروط اهـ أي؛ لأن المعتبر في كل منهما أخذ المال خفية، لكن الخفية في الصغرى هي الخفية عن غين المالك أو من يقوم مقامه كالمودع والمستعير. وفي الكبرى عن عين الإمام الملتزم حفظ طرق المسلمين وبلادهم كما في الفتح (ج4،ص82،کتاب السرقة ط: سعید)
وفیہ ایضاً : "والحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لايحل له ويتصدق به بنية صاحبه." (ج5،ص:99باب البيع الفاسد،مطلب فيمن ورث مالا حراما،ط:سعید)