میں نے اپنا بیٹا اپنی سالی کو گود دیا ہے۔وہ ولدیت اپنی لکھو انا چاہتے ہیں۔اور ہمارے خاندان میں سب کو پتہ ہے کہ انہوں نے بچہ گود لیا ہے وہ کہہ رہے ہیں صرف ڈاکومنٹ کی حد تک ہم اس کا نام لکھنا چاہ رہے ہیں کیا یہ جائز ہے۔اور اس میں میری کوئی مرضی شامل نہیں ہے۔میں نے ان کو صاف بتا دیا ہے کہ اس میں میری کوئی مرضی شامل نہیں ہے اپ ولدیت نہیں چینج کر سکتے۔مہربانی کر کے اس میں میری اور رہنمائی فرمائیں فرمائیں اور پراپر فتوی دیں شکریہ۔
واضح ہوکہ کسی لڑکے یا لڑکی کو گود لینا شرعا جائز ہے، اور اگر یہ کسی اچھے مقصد کے تحت ہو تو باعث اجر و ثواب بھی ہے، تاہم کسی بچے یا بچی کو گود لینے اور اپنا لے پالک بنانے سے وہ حقیقی بیٹی یا بیٹا نہیں بنتا ، اس ليے لے پالک بچوں کو اپنی طرف منسوب کرنا اور ان کے شناختی کارڈ وغیرہ دیگر کاغذات میں ولدیت کے خانہ میں حقیقی والد کے بجائے اپنا نام لکھنا شرعا جائز نہیں ، بلکہ بنص قرآن و حدیث حرام ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں بھی سائل کی سالی کو چاہیے کہ سائل کے جس بیٹے کو انہوں نے گود لیا ہے اسکی ولدیت کے خانے میں اپنے شوہر کا نام لکھنے کے بجائے سائل (حقیقی والد) کا نام ہی لکھے۔
قال اللہ تعالی: مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ وَمَا جَعَلَ أَزْوَاجَكُمُ اللَّائِي تُظَاهِرُونَ مِنْهُنَّ أُمَّهَاتِكُمْ وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا۔ (الٲحزاب:۴۔۵)۔
وفی التحریر والتنویر للعلامة الطاهر بن عاشور: ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم. استئناف بالشروع في المقصود من التشريع لإبطال التبني وتفصيل لما يحق أن يجريه المسلمون في شأنه. وهذا الأمر إيجاب أبطل به ادعاء المتبني متبناه ابنا له. والمراد بالدعاء النسب. والمراد من دعوتهم بآبائهم ترتب آثار ذلك، وهي أنهم أبناء آبائهم لا أبناء من تبناهم اھ (۲۱/۲۶۱)۔