میں نے منت مانگی ہے کہ میرا فلاں کام ہو جائے گا تو میں روزہ رکھوں گا۔ میں نے منت کا روزہ رکھ لیا، لیکن کسی وجہ سے توڑ دیا اور بعد میں رکھ لیا، تو کیا مجھے کفارہ ادا کرنا چاہیے؟
واضح کفاره صرف رمضان المبارک کا روزہ رکھ کر توڑنے سے لازم آتا ہے کسی دوسرے روزے کے توڑنے سے نہیں ،لہذا جب سائل نے اس روزے کے عوض بطور قضاء دوسرے دن روزہ رکھ لیا ہے تو اس کا یہ عمل بلا شبہ جائز اور دست ہوگیا ہے ،اس کا کفارہ اداء کرنے کی ضرورت نہیں، مگر بلا وجہ ایسا روزہ توڑنا گناہ کی بات ہے، جس پر توبہ و استغفار لازم ہے۔
کمافي الدر المختار: (وإن جامع) المكلف آدميا مشتهى (في رمضان أداء) لما مر اھ (2/ 409)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله لما مر) أي من أن الكفارة إنما وجبت لهتك حرمة شهر رمضان، فلا تجب بإفساد قضائه ولا بإفساد صوم غيره. (2/ 409) والله اعلم بالصواب
شدید تھکن اور چکر آنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا
یونیکوڈ روزے کی قضاء و کفارہ 0