ایک شخص بیمار ہے اس کے جگر کا مسئلہ ہے اور اس کی مالی حیثیت بھی کمزور ہے ، تقریباً 50 سال کے لگ بھگ اس کی عمر ہوگی تو اس کےلئے رمضان المبارک کے روزے رکھنے یا فدیہ دینے کا کیا حکم ہے ؟
مذکور شخص کےلئے اگر اپنی بیماری کی وجہ سے آئندہ کےلئے مستقل طور پر روزہ رکھنا نقصان دہ ہو اور ماہر دیندار ڈاکٹر بھی روزہ رکھنے سے منع کردے تو اس کےلئے روزہ چھوڑنے کی گنجائش ہے ، البتہ اگر ان روزوں کا فدیہ دینے کی فی الحال استطاعت نہ ہو تو فدیہ دینا لازم نہیں ، تاہم اگر بعد میں جب بھی روزہ رکھنے کی یا فدیہ دینے کی استطاعت ہوجائے تو روزوں کی قضا کرنا یا فدیہ دینا لازم ہوگا ۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: (ومنها المرض) المريض إذا خاف على نفسه التلف أو ذهاب عضو يفطر بالإجماع، وإن خاف زيادة العلة وامتدادها فكذلك عندنا، وعليه القضاء إذا أفطر كذا في المحيط اھ (ومنها: كبر السن) فالشيخ الفاني الذي لا يقدر على الصيام يفطر ويطعم لكل يوم مسكينا كما يطعم في الكفارة كذا في الهداية. والعجوز مثله كذا في السراج الوهاج. وهو الذي كل يوم في نقص إلى أن يموت كذا في البحر الرائق. ثم إن شاء أعطى الفدية في أول رمضان بمرة، وإن شاء أخرها إلى آخره كذا في النهر الفائق. ولو قدر على الصيام بعد ما فدى بطل حكم الفداء الذي فداه حتى يجب عليه الصوم هكذا في النهاية اھ (ج 1، صـــ 207، ط: ماجدیہ)۔
شدید تھکن اور چکر آنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا
یونیکوڈ روزے کی قضاء و کفارہ 0