اگرکوئی مسافر شدید تھکن اور چکر آجانے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑ دے،تو اُس کا کفارہ 60 مسکینوں کو اطعام کافی ہے؟یا اس پر لازم ہے کہ وہ ساٹھ روزے رکھے؟کیونکہ وہ جوان ہے ۔
حالتِ سفر میں بامرِ مجبوری قصداً روزہ توڑ دینے کی وجہ سے صرف قضا لازم ہوتی ہے کفارہ نہیں ۔
کمافي الهندية: المريض إذا خاف على نفسه التلف أو ذهاب عضو يفطر بالإجماع وإن خاف زيادة العلة وامتداده فكذلك عندنا وعليه القضاء إذا أفطر كذا في المحيط اھ (1/207) ۔