کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے کہ ایک شخص نے روزہ کی حالت میں رمضان المبارک میں اپنی بیوی کے ساتھ ہم بستری کر لی تو اس شخص کے لیے شرعی حکم کیا ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
رمضان المبارک کا فرض روزہ جان بوجھ کر " یعنی قصداً" توڑنے کی وجہ سے قضاء اور کفارہ دونوں لازم ہوتے ہیں۔ لہذا شخص مذکور اور اُس کی بیوی یعنی دونوں پر لازم ہے کہ وہ اس فرض روزہ کی قضاء کے طور پر ایک روزہ رکھیں اور اس کے کفارہ کے طور پر مسلسل دو ماہ کے روزے اور اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو علیحدہ علیحدہ سے ساٹھ مسکینوں کو صبح وشام پیٹ بھر کر کھانا کھلا دیں۔ اور آئندہ کے لیے اس طرح فرض روزہ توڑنے سے احتراز بھی کریں۔
کما قال الله تعالى : {فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا } [المجادلة: 4]
و في الدر المختار: (وإن جامع) المكلف آدميا مشتهى (في رمضان أداء) لما مر (أو جامع) أو توارت الحشفة (في أحد السبيلين) أنزل أو لا (أو أكل أو شرب غذاء) عمدا (إلى قوله) قضى) في الصور كلها (وكفر) اھ (2/ 409) والله اعلم بالصواب
شدید تھکن اور چکر آنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا
یونیکوڈ روزے کی قضاء و کفارہ 0