السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء دین اور مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ۔
ایجنسیاں اور ایجنٹ بیرون ملک جانے والے لوگوں کا مختلف میڈیکل لیبارٹریوں سے میڈیکل ٹیسٹ کرواتے ہیں جن کی قیمت (لیب پرائس لسٹ کے مطابق) عموما چھ ہزار روپے ہوتی ہے جو آنے والے آدمی سے لیب والے وصول کر لیتے ہیں جس میں سے تقریبا تین ہزار روپے بندہ بھیجنے والے ایجنٹ/ ایجنسی کو کمیشن کے طور پر دیتے ہیں
لیکن بعض ایجنٹ/ ایجنسی کا مطالبہ ہوتا ہے کہ میڈیکل کروانے والے شخص سے اسی چھ ہزار والے ٹیسٹ کے دس/ پندرہ ہزار وصول کیے جائیں اور ایجنٹ/ ایجنسی کو سات / پندرہ ہزار روپے ریٹرن کیے جائیں۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ آیا لیب والوں کے لیے درست ہے کہ وہ چھ ہزار والے ٹیسٹ کے دس پندرہ ہزار وصول کریں اور اسی طرح ایجنٹ یا ایجنسی کا اس طرح کا مطالبہ کرنا اور اضافی رقم وصول کرنا جائز ہے؟
واضح ہو کہ شریعت مطہرہ میں حلال اور جائز معاملات میں اپنی خدمات کے بدلے کمیشن کےنام پرکوئی معاوضہ یا اجرت وصول کرنا درست ہے،بشرطیکہ وہ خدمات اس طرح ہوں کہ اس کے لئے عملا بھی بھاگ دوڑ کرکے محنت کرنی پڑے ورنہ محض کسی کی طرف بندے کو ریفر کرنا کوئی ایسا عمل نہیں جس پر اجرت کا استحقاق ہوسکے ۔ لہذا صورت مسئولہ میں ایجنٹ یا ایجنسی والوں کا میڈیکل ٹیسٹ کروانے کے لیے کسٹمر کو کسی مخصوص لیبارٹری کی طرف محض ریفر کرنا قابل اجرت عمل نہیں کہ جس پر شرعاً عوض لینا جائز ہو۔ نیز اس کمیشن کی وجہ سے عموماً ٹیسٹ مہنگے بھی ہوجاتے ہیں، جس کا مالی بوجھ بالآخر کسٹمر پر پڑتا ہے۔ لہٰذا ایجنٹ یا ایجنسی والوں کا کسٹمر بھیجنے پر کمیشن لینا، اور لیبارٹری والوں کا اس مقصد کے لیے کمیشن دینا، شرعاً ناجائز ہے، اس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی الشامیۃ:وفي البزازية والولوالجية: رجل ضل له شيء فقال: من دلني على كذا فهو على وجهين: إن قال ذلك على سبيل العموم بأن قال: من دلني فالإجارة باطلة؛ لأن الدلالة والإشارة ليست بعمل يستحق به الأجر، وإن قال على سبيل الخصوص بأن قال لرجل بعينه: إن دللتني على كذا فلك كذا إن مشى له فدله فله أجر المثل للمشي لأجله؛ لأن ذلك عمل يستحق بعقد الإجارة إلا أنه غير مقدر بقدر فيجب أجر المثل، وإن دله بغير مشي فهو والأول سواء. (ج6 ص 96 مطلب ضل له شيء فقال من دلني عليه فله كذا ط: سعید )
وفیہ ایضاً : قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة." (کتاب الإجارۃ ، مطلب في أجرة الدلال ، ج 6ص63 ط:سعید)
و فی المحيط البرهاني :وفي) نوادر ابن سماعة(عن أبي يوسف: رجل ضل شيئا، فقال: من دلني عليه فله درهم فدله إنسان فلا شيء له؛ لأن الدلالة والإشارة ليست بعمل يستحق به الأجر، ولو قال لإنسان بعينه: إن دللتني عليه فلك درهم، فإن دله من غير شيء معه فكذلك الجواب لا يستحق به الأجر وإن مشى معه ودله فله أجر مثله، لأن هذا عمل يقابل الأجر عرفا وعادة إلا أنه غير مقدر ففسد العقد ووجب به أجر المثل ج 4 ص: 485)
"امدادالفتاوی میں ہے " سوال:حکیم وعطارمیں جوچہارم کا معاملہ طے ہوجاتا ہے یعنی حکیم،عطار سے یوں کہتا ہے کہ جس قدر ہم تمہارے یہاں نسخہ جات بذریعہ مریض روانہ کریں اس میں جو قیمت وصول ہو،اس میں سے چہارم ہم کو دینا ،چنانچہ اس کو عطار تسلیم کرلیتا ہے،تو اب فرمائیےکہ یہ چہارم عطار کو دینا اور حکیم کو لینا درست ہے یا نہیں ؟
الجواب: درست نہیں ۔ (ج4 ص:410)