میں دوسری شادی کرنا چاہتاہوں،کیا مجھے اپنی پہلی بیوی کی اجازت کی ضرورت ہے؟اور میں اپنی دونوں بیویوں کی ساری خواہشات پورا کرسکتاہوں،اگر اس میں مجھے میری پہلی بیوی چھوڑ دے تو کیا مجھے گناہ ملےگا؟
اگر سائل دو بیویوں کےحقوقِ زوجیت اداکرنے اور نان و نفقہ میں انصاف اوربرابری کرنے کی استطاعت رکھتا ہو، تودوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت لینا شرعاً ضروری نہیں،چنانچہ پہلی بیوی کی اجازت کے بغیردوسری شادی کرلینے سے شرعاً سائل گناہگار نہیں ہوگا ، البتہ آئندہ کی زندگی چین و سکون سے گزار نے کے لئے اگر مناسب طریقے سے پہلی بیوی کو سمجھاکر اس کی اجازت سے دوسری شادی کی جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اس کے باوجود اگر سائل دوسری شادی کرلیتا ہے اور پہلی بیوی سائل کو چھوڑ جاتی ہے تو اس سے سائل گناہگار نہیں ہوگا۔
کماقال اللہ تعالیٰ: فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا (النساء : 3 الآیة)۔
و فی الھندیۃ: وإذا كانت له امرأة وأراد أن يتزوج عليها أخرى وخاف أن لايعدل بينهما لايسعه ذلك، وإن كان لايخاف وسعه ذلك،والامتناع أولی ویؤجر بترک ادخال الغم علیھا کذا فی السراجیۃ(کتاب النکاح، الباب الحادی عشر في القسم، ج: 1،ص: 341،ط:رشیدیۃ)
وفی بدائع الصنائع: وجملة الكلام فيه أن الرجل لا يخلو إما أن يكون له أكثر من امرأة واحدة وإما إن كانت له امرأة واحدة، فإن كان له أكثر من امرأة، فعليه العدل بينهن في حقوقهن من القسم والنفقةوالكسوة، وهوالتسوية بينهن في ذلك حتى لو كانت تحته امرأتان حرتان أو أمتان يجب عليه أن يعدل بينهما في المأكولوالمشروب والملبوس والسكنى والبيتوتة۔الخ(فصل ومنھا وجوب العدل بین النساء۔الخ،ج:2،ص:332،ط:سعید)۔