السلام علیکم !میرا نام زید اور میں واہ کینٹ، راولپنڈی کا رہائشی ہوں ۔ جناب اعلی! میں ایک لڑکی کو پسند کرتا ہوں اور اس سے نکاح / شادی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ ہم ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں اور میں اسے چار سال سے جانتا ہوں، وہ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتی ہے اور دین اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والی ہے۔ جناب عالی! میں نے جب یہ بات اپنے گھر بتائی کہ: میں اس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں ،تو میرے گھر والوں نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ آج کل کسی کا بھروسہ نہیں، تو ہم خود کوئی لڑکی دیکھیں گے ۔ جبکہ میں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ: آپ لوگ ایک بار لڑکی والوں کے گھر جا کر ان کو دیکھ لیں، بات چیت کر لیں، نیز تسلی کر لیں تو اگر آپ لوگوں کو ان کی کوئی بات یا مطالبہ ٹھیک نہیں لگتا، تو آپ لوگ منع کر دینا، لیکن ان کا کہنا ہے کہ: بس ہم نہیں جا رہےان کے گھر، ہمیں نہیں پسند وہ، جبکہ یہ لوگ ان سے ایک بار بھی نہیں ملے ۔ مختصر یہ کہ میرے گھر والے بغیر کسی وجہ کے میری پسند کو رد کر رہے ہیں، اور اپنی مرضی / پسند/ ضد کو مجھ پر مسلط کر رہے ہیں ،جبکہ دین اسلام نے مجھے میری پسند کی عورت سے شادی کرنے کی اجازت اور اختیار دیا ہے ۔ مزید یہ کہ میں نے ان کو نہ صرف قرآن و حدیث کے حوالے دئیے،بلکہ دو تین جگہ سے استخارہ بھی کروایا جو کہ ٹھیک آیا۔ لیکن اس سب کے باوجود میرے گھر والے اپنی ضد پر قائم ہیں۔ جناب عالی! میں اس سلسلے میں انتہائی مشکل کا شکار ہوں، لہذا آپ اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے مجھے فتویٰ فراہم کریں ،تاکہ میں اس فتویٰ کو اپنے گھر والوں کے سامنے پیش کر سکوں تاکہ ان کی اصلاح ہو سکے اور میرا نکاح میری مرضی اور پسند کی عورت سے ہو سکے ۔ شکریہ!
مسئولہ صورت میں سائل اور مذکور لڑکی کا اولیاء کی اجازت اور رضامندی کے بغیر آپس میں نکاح کافیصلہ کرنا تو قطعاً مناسب نہیں، بلکہ عرفا یہ عمل بہت معیوب سمجھا جاتا ہے، تاہم اگر لڑکی دین دار ہو اوراس میں کوئی اخلاقی برائی نہ ہو ،تو سائل کے والدین کو چاہیے کہ: سائل کی پسند کا خیال رکھتے ہوئے، مذکور رشتہ کی مکمل تحقیقات کریں، پھر اگر والدین مطمئن ہو جائیں ،تو انہیں یہ رشتہ کر دینا چاہیئے، البتہ اگر والدین کسی معقول وجہ سے اس رشتہ کے لیے آمادہ نہ ہوں ،تو سائل کو چاہیئے کہ اسی جگہ رشتہ کرنے پر اصرار کرنے کے بجائے، والدین کی رضا مندی سے ہی دوسری جگہ نکاح و شادی کو ترجیح دے۔