میری جس جگہ شادی ہو رہی اُس کو اُس کے شوہر نے لڑکی کے ماں باپ کے سامنے طلاق دی، عدّت بھی پوری ہو گئی لیکن لڑکا عدالت میں مُکر گیا کہ میں نے طلاق نہیں دی، جب کہ لڑکی اور اُس کے باپ نے قرآن پر قسم دی کہ طلاق ہو گئی۔ کیا میں اُس لڑکی سے نکاح کر سکتا ہوں؟
واضح ہو کہ اگر کوئی خاتون اپنے خاوند سے متعلق تین طلاقیں دینا بیان کرے اور خاوند طلاق دینے سے منکر ہو تو ایسی صورت میں قضاءََنکاح ختم ہونے کے لیے عورت کے پاس اپنے دعوے کے ثبوت کے لیے شرعی گواہان کا ہونا ضروری ہوتا ہے، لہٰذا اگر عورت قاضی یا عدالت کے سامنے گواہان کے ذریعے خاوند کا اسے تین طلاقیں دینا کو ثابت کرتی ہے تو قاضی یا عدالت کے فیصلے سے اُس کا اپنے خاوند سے نکاح ختم ہو جاتا ہے اور عدّت کے بعد اسے کسی اور جگہ نکاح کرنے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن اگر وہ گواہان کے ذریعے اسکو ثابت نہیں کر پائی تو قضاءََ اور قانوناً اُس کا اپنے خاوند سے نکاح ختم نہیں ہوتا،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکور عورت کے پاس اپنے دعوے کے ثبوت کے لیے اگر شرعی گواہ (یعنی دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں) موجود نہ ہوں اور خاوند طلاق دینے سے انکاری ہو جس پر وہ حلف اُٹھائے تو ایسی صورت میں اگرچہ قضاءََ دونوں کا نکاح ختم نہ ہوگا، چنانچہ ایسی صورت میں سائل کے لیے مذکور عورت کے ساتھ نکاح جائز نہ ہوگا،البتہ اگر عورت کو طلاق کے الفاظ تین دفعہ سُننا یقینی طور پر یاد ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ خاوند کو اپنے قریب نہ آنے دے اور آپس کے تعلقات کو ختم کرکے اُس کو کسی طرح (مثلاً خلع وغیرہ پر آمادہ کرکے) اس سے چُھٹکارا حاصل کرے، چنانچہ سابقہ خاوند سے چُھٹکارا اور عدّت کے بعد سائل کے لیے اس سے نکاح کرنا جائز اور درست ہوگا۔
كما في سنن الترمذي: عن عمرو بن شعيب ، عن أبيه ، عن جده أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في خطبته:البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه(باب ما جاء في أن البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه،ج:١،ص:٥١٨،مط:البشرى)
كما في رد المحتار: ويقع قضاء إلا أن يكون مكرها والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله(باب صريح الطلاق،ج:٣،ص:٣٥١،مط:سعيد)
وفي البحر الرائق : ويقع قضاء إلا أن يكون مكرها، والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه اهـ. ولا فرق في البائن بين الواحدة، والثلاث(باب ألفاظ الطلاق،ج:٣،ص:٢٥٧،مط:رشيديه)
وفيه ايضاََ: (قوله ولغيرها رجلان أو رجل وامرأتان) للآية أطلقه فشمل المال وغيره كالنكاح والطلاق والوكالة والوصية والعتاق والنسب(كتاب الشهادات،ج:٧،ص:٦٢،مط: رشيديه)
و في فتح القدير :وكل ما لا يدينه القاضي إذا سمعته منه المرأة أو شهد به عندها عدل لا يسعها أن تدينه لأنها كالقاضي لا تعرف منه إلا الظاهر(باب إيقاع الطلاق،ج:٣،ص:٣٥٣،مط:رشيديه)