السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں ایک آزمائش میں مبتلا ہوں۔ میری منگنی میرے پھوپھی زاد بھائی سے ہوئی تھی، لیکن انہوں نے میرے ساتھ دھوکہ کیا، جس کی وجہ سے گھر والوں نے یہ رشتہ ختم کر دیا۔
اس واقعے کے بعد دونوں خاندانوں کے درمیان دشمنی، ناراضی اور نفرت پیدا ہو گئی ہے۔ بعد میں انہوں نے مجھ سے معافی مانگی، لیکن پھر مجھے بلاک کر دیا۔
میرا دل اب بھی صرف انہی کو چاہتا ہے، لیکن گھر والے اس رشتے پر راضی نہیں ہیں۔ میں خود کو بہت تنہا محسوس کرتی ہوں۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ایسا مؤثر اور مشروع روحانی عمل، دعا یا وظیفہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اگر اس میں بہتری مقدر فرمائیں تو اسے میرا نصیب بنا دیں، اور دونوں خاندانوں کے درمیان پیدا ہونے والی نفرت اور دشمنی کو ختم فرما کر محبت، صلح اور اتفاق پیدا فرما دیں؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہوکہ کسی مخصوص شخص کو اپنا نصیب بنانے کے لیے کوئی خاص وظیفہ قرآن و سنت سے ثابت نہیں،چنانچہ نکاح اور دیگر خیرکے معاملات میں بندے کا کام صرف اللہ تعالیٰ سے دعاءاور جائز اسباب اختیار کرنا ہے، جبکہ نتیجہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر چھوڑ دینا چاہیے۔
لهذااگرسائلہ اپنے مذكورپھوپھي زادکےساتھ نکاح کرنے کی خواہشمندہواورسابقہ رشتہ (نکاح)ختم ہونے کے بعدان کے تجدیدنکاح کی صورت بن سکتی ہوتواسے چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیا کریں کہ: "اے اللہ! اگر یہ رشتہ میرے دین، دنیا اور آخرت کے لیے بہتر ہے تو اسے آسان فرما دے، اور اگر اس میں میرے لیے خیر نہیں تو اسے میرے دل سے نکال دے اور میرے لیے اس سے بہتر فیصلہ فرما۔"
اسی طرح کثرت سے استغفار، درود شریف اور دعا دعا کا اہتمام مفید ہے: اللَّهُمَّ خِرْ لِي وَاخْتَرْ لِي.
نیز دونوں خاندانوں کے درمیان صلح، محبت اور دلوں کی الفت کے لیے دعا کرنا بھی باعثِ اجر ہے۔البتہ اس معاملے میں حد سے زیادہ ذہنی وابستگی اور مستقبل کو صرف اسی ایک رشتے کے ساتھ وابستہ کر لینا مناسب نہیں۔ بلکہ خیر کی دعا کرنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہنے کی کوشش کرے، کیونکہ بعض اوقات جس چیز کو انسان اپنے لیے بہتر سمجھتا ہے، اس میں اس کے حق میں خیر نہیں ہوتی، اور اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس سے بہتر راستہ مقدر فرما دیتے ہیں۔