السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ میں نے رمضان میں روزے کی حالت میں اپنی زوجہ کے ساتھ ہم بستری کی تھی، لیکن مجھے اس گناہ اور اس کے حکم کا اندازہ نہیں تھا، بعد میں جب میں نے اس مسئلے کے بارے میں تحقیق کی تو مجھے کفارے کا علم ہوا، اب مجھے یہ معلوم نہیں کہ میں نے کتنے روزے اس وجہ سے خراب کیے تھے، جس کی وجہ سے میں بہت پریشان ہوں، اس بارے میں میری رہنمائی فرمائیں کہ خراب کیے گئے روزوں کی تعداد معلوم کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ نیز میں نے کچھ قسمیں بھی توڑی ہیں، اس بارے میں بھی بتائیں کہ مجھ پر کیا کفارہ لازم ہے؟
واضح ہو کہ رمضان المبارک کے مہینہ میں روزہ کی حالت میں بیوی سے صحبت کرنا شرعاً ناجائز اور گناہ کبیرہ ہے، اس کی وجہ سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور قضا کے ساتھ ساتھ کفارہ بھی لازم ہوتا ہے، چنانچہ سائل کو سب سے پہلے تو اپنے اس گناہ پر بصدق دل توبہ واستغفار کرتے ہوئے آئندہ دوبارہ اس قسم کے ناجائز کاموں سے مکمل اجتناب لازم ہے۔
جہاں تک مذکور روزوں کی تعداد معلوم کرنے کا تعلق ہے تو اس بارے میں سائل کے غالب گمان کا اعتبار ہوگا، چنانچہ سائل کو چاہیے کہ اپنے ذہن پر خوب زور ڈال کر روزوں کی تعداد کاکوئی اندازہ لگالے کہ مثلاً پندرہ یا بیس روزے اس طرح توڑے ہیں، اس کے بعد ان تمام روزوں کی قضا سائل پر لازم ہے، البتہ کفارہ سے متعلق تفصیل یہ ہے کہ اگر یہ گناہ صرف ایک رمضان المبارک کے مہینہ میں ہوا ہے تو ان سب روزوں کی طرف سے ایک کفارہ کافی ہوجائے گا، لیکن اگر یہ گناہ کئی سال تک ہوتا رہا تو ہر رمضان کا الگ الگ کفارہ لازم ہوگا، جبکہ روزوں کا کفارہ یہ ہے کہ دو ماہ مسلسل روزے رکھے جائیں، اگر یہ تسلسل کسی بھی وجہ (خواہ بیماری ہو یا اور کوئی عذر ہو) سے ٹوٹ جائے تو نئے سرے سے روزے رکھنا لازم ہوں گے، البتہ اگر کسی مستقل بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے مسلسل روزے رکھنا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں روزوں کے بجائے ساٹھ مسکینوں کو صبح شام پیٹ بھر کر دو وقت کا کھانا کھلادیا جائے یا ہر مسکین کو ایک صدقہ فطر کے برابر رقم دیدی جائے تو اس سے بھی کفارہ ادا ہوجائے گا۔ یہ تفصیل ایک کفارہ سے متعلق ہے، دوسرا اور تیسرا کفارہ بھی اسی طرح ادا کیا جائے گا۔
نیز اگر عورت کی رضامندی بھی اس میں شامل تھی تو اس پر بھی الگ سے قضا اور کفارہ لازم ہوگا، البتہ عورت کے حق میں حیض کی وجہ سے تسلسل کا ٹوٹنا مضر نہیں، بلکہ حیض کے اختتام پر بقیہ روزے رکھ سکتی ہے۔
جہاں تک کفارہ یمین (قسم) کا تعلق ہے تو اس میں ہر قسم کے بدلہ میں دس مسکینوں کو صبح شام پیٹ بھر کر کھانا کھلادیا جائے یا ہر مسکین کو ایک صدقہ فطر کے برابر رقم دیدی جائے، لیکن اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو مسلسل تین دن روزے رکھے جائیں، اس طرح کرنے سے ایک قسم کا کفارہ ادا ہوگا، چنانچہ جتنی قسمیں توڑی ہوں، ان کا حساب لگاکر کفارے ادا کرلیے جائیں۔
ففي الفتاوى الهندية: «من جامع عمدا في أحد السبيلين فعليه القضاء والكفارة، ولا يشترط الإنزال في المحلين كذا في الهداية. وعلى المرأة مثل ما على الرجل إن كانت مطاوعة، وإن كانت مكرهة فعليها القضاء دون الكفارة، وكذا إذا كانت مكرهة في الابتداء ثم طاوعته بعد ذلك كذا في فتاوى قاضي خان.» (1/ 205)
وفي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: «ولو جامع في رمضان متعمدا مرارا بأن جامع في يوم ثم جامع في اليوم الثاني ثم في الثالث ولم يكفر فعليه لجميع ذلك كله كفارة واحدة عندنا، وعند الشافعي عليه لكل يوم كفارة، ولو جامع في يوم ثم كفر ثم جامع في يوم آخر فعليه كفارة أخرى في ظاهر الرواية، وروى زفر عن أبي حنيفة أنه ليس عليه كفارة أخرى، ولو جامع في رمضانين ولم يكفر للأول فعليه لكل جماع كفارة في ظاهر الرواية.» (2/ 101)
وفي البحر الرائق: «ولو جامع مرارا في أيام رمضان واحد، ولم يكفر كان عليه كفارة واحدة؛ لأنها شرعت للزجر، وهو يحصل بواحدة فلو جامع وكفر ثم جامع مرة أخرى فعليه كفارة أخرى في ظاهر الراوية للعلم بأن الزجر لم يحصل بالأول. ولو جامع في رمضانين فعليه كفارتان، وإن لم يكفر للأولى في ظاهر الرواية، وهو الصحيح كذا في الجوهرة» (2/ 298)
وفي الفتاوى الهندية» «وهي أحد ثلاثة أشياء إن قدر عتق رقبة يجزئ فيها ما يجزئ في الظهار أو كسوة عشرة مساكين لكل واحد ثوب فما زاد وأدناه ما يجوز فيه الصلاة أو إطعامهم والإطعام فيها كالإطعام في كفارة الظهار هكذا في الحاوي للقدسي. وعن أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى إن أدنى الكسوة ما يستر عامة بدنه حتى لا يجوز السراويل وهو صحيح كذا في الهداية. فإن لم يقدر على أحد هذه الأشياء الثلاثة صام ثلاثة أيام متتابعات وهذه كفارة المعسر والأولى كفارة الموسر» (2/ 61)
شدید تھکن اور چکر آنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا
یونیکوڈ روزے کی قضاء و کفارہ 0