آمدنی و مصارف

دوران ڈیوٹی ذاتی کام میں صرف کئے ہوئے وقت کی تنخواہ کا مصرف

فتوی نمبر :
95664
| تاریخ :
2026-05-24
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

دوران ڈیوٹی ذاتی کام میں صرف کئے ہوئے وقت کی تنخواہ کا مصرف

کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل سوال کے بارے میں کہ میں نیشنل بینک میں سروس کرتا تھا ، روزانہ آٹھ گھنٹے کام کرنا پڑ تا تھا ، صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک ، ایک گھنٹہ لنچ (کھانا) ہوتا تھا، میں نے بینک کا جو ٹائم ہے اس میں سے روزانہ کے حساب سے ایک یا دو گھنٹے اپنے ذاتی کام میں صرف کئے ہیں، میری ٹوٹل سروس چالیس سال تھی ، میں نے جو خیانت کی ہے، میں اس کا ازالہ کرنا چاہتاہوں ، اس کا کیا طریقہ کار ہے، اس میں معافی ہوسکتی ہے ، اس کے لیے جتنے پیسے بنتے ہیں، وہ میں ایک ساتھ کسی غریب کو دوں یا تھوڑے تھوڑے کرکے دوں ، شروع میں تنخواہ کم تھی ، آہستہ آہستہ تنخواہ بڑھ گئی ، تو اس کا میرے پاس کوئی ریکارڈ بھی نہیں ہے، کیا یہ پیسے میں مسجد میں خرچ کرسکتاہوں؟
نوٹ: بینک میں شروع میں چپڑاسی کی نوکری تھی ، دو سال بعد آفیسر بن گیا تھا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ملازمت کے مقررہ اوقات میں مفوضہ ذمہ داری ترک کرکے غیر متعلقہ کوئی دوسرا کام کرنا جائز نہیں، بلکہ خیانت ہے، اور اتنے وقت کی تنخواہ بھی حلال نہ ہوگی، لہٰذا صورت مسئولہ میں سائل کا اپنے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کی اجازت کے بغیر بینک کے مقررہ وقت میں کوئی دوسرا کام کرنا شرعاً جائز نہ تھا ، جس کی وجہ سے وہ گناہ گارہواہے،لہذا اس کوتاہی پربصدق دل توبہ واستغفاراور جتنی مقدار کا نقصان بنتا ہو اس قدرتنخواہ کی رقم حساب کرکےادارہ میں واپس کرنا لازم ہے۔ لیکن اگر چالیس سال کا طویل عرصہ ہونےکی وجہ سےتفصیلی حساب ممکن نہ ہو، تو غالب گمان کے مطابق اندازہ لگا کربھی مذکورقم جمع کروائی جاسکتی ہے ،تاہم اگربنک میں رقم جمع کراناممکن نہ ہوتومذکور رقم بطورِ صدقہ فقراء کو دینا لازم ہے۔ یہ رقم مسجد میں صرف کرنا درست نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیۃ: يصح العقد على مدة معلومة أي مدة كانت قصرت المدة كاليوم ونحوه أو طالت كالسنين، كذا في المضمرات. ويعتبر ابتداء المدة مما سمى، وإن لم يسم شيئا فهو من الوقت الذي استأجرها، كذا في الكافي (إلی قولہ) وفی فتاوی الفضلی رحمہ اللہ تعالی إذا استأجر رجلا یوما لیعمل کذا فعلیہ أن یعمل ذلک العمل إلی تمام المدۃ ولا تشتغل بشیء آخر الخ (کتاب الإجارۃ ، الباب الثالث ، ج :٤، ص: ٤١٦ ط: ماجدیۃ)
وفی الدر المختار: (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهرا حيث يكون مشتركا إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعى لغيره فيكون خاصا وتحقيقه في الدرر وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل اھ
وفی ردالمحتار: (قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى اھ (کتاب الإجارۃ ، ج: ٦، صـ :٦٩-٧٠، ط: سعید)
وفی الموسوعۃ الفقہیة: ويجب على الأجير الخاص أن يقوم بالعمل في الوقت المحدد له أو المتعارف عليه. ولا يمنع هذا من أدائه المفروض عليه من صلاة وصوم، بدون إذن المستأجر. وقيل: إن له أن يؤدي السنة أيضا، وأنه لا يمنع من صلاة الجمعة والعيدين، دون أن ينقص المستأجر من أجره شيئا إن كان المسجد قريبا اھ(اجارۃ، المطلب الأول الأجير الخاص، ج: ١، ص: ٢٨٩، مط: دار السلاسل)
وفیھا ایضاً: وليس للأجير الخاص أن يعمل لغير مستأجره إلا بإذنه، وإلا نقص من أجره بقدر ما عمل. ولو عمل لغيره مجانا أسقط رب العمل من أجره بقدر قيمة ما عمل اھ (اجارۃ، المطلب الأول الأجير الخاص، ج: ١، ص: ٢٩٠، مط: دار السلاسل)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اظہر امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95664کی تصدیق کریں
0     21
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مالک کے علم میں لائے بغیر کسی کام کے کرنے پر کمیشن لینا جائز نہیں

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 1
  • کسی بھی ملازم کا کمپنی کے توسط سے ہدیہ لینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 0
  • کرکٹ میچ کے اسکور ویب سائٹ پر ڈال کر پیسے کمانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 1
  • پروفیشنل کرکٹ کھیلنے اور اس کی آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   آمدنی و مصارف 1
  • حلال آمدن میں حرام آمدن شامل ہونے سے سارا مال حرام ہوجائیگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   آمدنی و مصارف 0
  • حرام مال سے خریدی گئی گاڑی سے حاصل ہونے والی حلال آمدنی

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • ایک مصرف کے نام پر چندے میں جمع کی ہوئی رقم ، کسی دوسرے مصرف میں خرچ کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 3
  • "پی ایل ایس " اکاؤنٹ کےمنافع اور اس کے مصرف کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • عورت کےلئے نس بندی کرنا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • سودی رقم سے ٹیکس ادا کرنا جائز نہیں

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کسی کمپنی ویب سائٹ پر پر غیر متعلقہ کمپنی کی تشہیر پر اجرت لینے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • ”studypool.com“ ویب سائٹ پر لٹریچر نوٹس سیل کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • فراڈ اور دھوکہ دہی سے حاصل کردہ مال کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 3
  • قبرستان میں لگے ہوئے درختوں کا کاٹنا -حدیث "قاتل مقتول دونوں جہنمی" کی تشریح

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • بینک کے لیے انجئنیرنگ کا کام کر کے اس کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کیا پیسے کمانا اللہ سے دوری کا سبب ہے ؟

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • اولیاء اللہ کی قبروں کو تجارت کا ذریعہ بنانا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
  • دکان کے سامنے والی جگہ کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 2
  • میزان بینک کے" نیا پاکستان اسلامک سرٹیفکیٹ" میں سرمایہ کاری کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • مقررہ تنخواہ والے امام کا اپنے لئے ،اپنی مسجد میں چندہ کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
  • بینک اکاونٹ کے سودی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کرنٹ اکاونٹ کا کہنے کے باوجود ، بینک والوں نے سیونگ اکاونٹ کھول دیا،اس میں جمع شدہ سودی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • حرام مال خرچ کرنے کے بعد بھی بلانیت ثواب صدقہ کرنالازم ہے

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • سرکاری سکول کے اساتذہ کا مقررہ وقت سے پہلے چھٹی کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • صدقہ کی چیز کی خرید وفروخت کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
Related Topics متعلقه موضوعات