کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل سوال کے بارے میں کہ میں نیشنل بینک میں سروس کرتا تھا ، روزانہ آٹھ گھنٹے کام کرنا پڑ تا تھا ، صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک ، ایک گھنٹہ لنچ (کھانا) ہوتا تھا، میں نے بینک کا جو ٹائم ہے اس میں سے روزانہ کے حساب سے ایک یا دو گھنٹے اپنے ذاتی کام میں صرف کئے ہیں، میری ٹوٹل سروس چالیس سال تھی ، میں نے جو خیانت کی ہے، میں اس کا ازالہ کرنا چاہتاہوں ، اس کا کیا طریقہ کار ہے، اس میں معافی ہوسکتی ہے ، اس کے لیے جتنے پیسے بنتے ہیں، وہ میں ایک ساتھ کسی غریب کو دوں یا تھوڑے تھوڑے کرکے دوں ، شروع میں تنخواہ کم تھی ، آہستہ آہستہ تنخواہ بڑھ گئی ، تو اس کا میرے پاس کوئی ریکارڈ بھی نہیں ہے، کیا یہ پیسے میں مسجد میں خرچ کرسکتاہوں؟
نوٹ: بینک میں شروع میں چپڑاسی کی نوکری تھی ، دو سال بعد آفیسر بن گیا تھا۔
واضح ہو کہ ملازمت کے مقررہ اوقات میں مفوضہ ذمہ داری ترک کرکے غیر متعلقہ کوئی دوسرا کام کرنا جائز نہیں، بلکہ خیانت ہے، اور اتنے وقت کی تنخواہ بھی حلال نہ ہوگی، لہٰذا صورت مسئولہ میں سائل کا اپنے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کی اجازت کے بغیر بینک کے مقررہ وقت میں کوئی دوسرا کام کرنا شرعاً جائز نہ تھا ، جس کی وجہ سے وہ گناہ گارہواہے،لہذا اس کوتاہی پربصدق دل توبہ واستغفاراور جتنی مقدار کا نقصان بنتا ہو اس قدرتنخواہ کی رقم حساب کرکےادارہ میں واپس کرنا لازم ہے۔ لیکن اگر چالیس سال کا طویل عرصہ ہونےکی وجہ سےتفصیلی حساب ممکن نہ ہو، تو غالب گمان کے مطابق اندازہ لگا کربھی مذکورقم جمع کروائی جاسکتی ہے ،تاہم اگربنک میں رقم جمع کراناممکن نہ ہوتومذکور رقم بطورِ صدقہ فقراء کو دینا لازم ہے۔ یہ رقم مسجد میں صرف کرنا درست نہیں۔
کما فی الھندیۃ: يصح العقد على مدة معلومة أي مدة كانت قصرت المدة كاليوم ونحوه أو طالت كالسنين، كذا في المضمرات. ويعتبر ابتداء المدة مما سمى، وإن لم يسم شيئا فهو من الوقت الذي استأجرها، كذا في الكافي (إلی قولہ) وفی فتاوی الفضلی رحمہ اللہ تعالی إذا استأجر رجلا یوما لیعمل کذا فعلیہ أن یعمل ذلک العمل إلی تمام المدۃ ولا تشتغل بشیء آخر الخ (کتاب الإجارۃ ، الباب الثالث ، ج :٤، ص: ٤١٦ ط: ماجدیۃ)
وفی الدر المختار: (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهرا حيث يكون مشتركا إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعى لغيره فيكون خاصا وتحقيقه في الدرر وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل اھ
وفی ردالمحتار: (قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى اھ (کتاب الإجارۃ ، ج: ٦، صـ :٦٩-٧٠، ط: سعید)
وفی الموسوعۃ الفقہیة: ويجب على الأجير الخاص أن يقوم بالعمل في الوقت المحدد له أو المتعارف عليه. ولا يمنع هذا من أدائه المفروض عليه من صلاة وصوم، بدون إذن المستأجر. وقيل: إن له أن يؤدي السنة أيضا، وأنه لا يمنع من صلاة الجمعة والعيدين، دون أن ينقص المستأجر من أجره شيئا إن كان المسجد قريبا اھ(اجارۃ، المطلب الأول الأجير الخاص، ج: ١، ص: ٢٨٩، مط: دار السلاسل)
وفیھا ایضاً: وليس للأجير الخاص أن يعمل لغير مستأجره إلا بإذنه، وإلا نقص من أجره بقدر ما عمل. ولو عمل لغيره مجانا أسقط رب العمل من أجره بقدر قيمة ما عمل اھ (اجارۃ، المطلب الأول الأجير الخاص، ج: ١، ص: ٢٩٠، مط: دار السلاسل)