میرے سسر نے اپنی زندگی ہی میں اپنی جائیداد ایک بیٹے اور تین بیٹیوں میں تقسیم کر دی تھی اور اپنا گھر الگ رکھ لیا تھا۔ اسی طرح انہوں نے اپنا کاروبار بھی ختم کر دیا۔ اب ان کا بیٹا ملازمت کرتا ہے اور مشکل سے اپنے گھر کے اخراجات پورے کرتا ہے، لیکن والدین اس سے بہت شکوے کرتے ہیں، بلکہ بعض اوقات طعن و تشنیع بھی کرتے ہیں کہ تم ہماری کوئی مالی مدد نہیں کرتے۔ حالانکہ والدین کے پاس فلیٹس موجود ہیں جن کا کرایہ بھی آتا ہے۔
ملازمت کی مصروفیت کی وجہ سے بیٹا زیادہ وقت والدین کے پاس نہیں جا سکتا اور نہ ہی ان کے بہت سے کام انجام دے سکتا ہے۔ اس صورتِ حال میں بیٹے کو کیا کرنا چاہیے؟
مزید یہ کہ والدین شروع ہی سے بہو کو سخت ناپسند کرتے ہیں اور اس کے ساتھ تحقیر آمیز لہجہ اختیار کرتے رہے ہیں۔ اس معاملے میں شرعی اور اخلاقی طور پر کیا رہنمائی فرمائی جائے گی؟
صورتِ مسئولہ میں اگر والدین اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے معقول آمدنی اور جائیداد رکھتے ہیں، مثلاً ان کے پاس فلیٹس موجود ہیں جن کا کرایہ ان کی ضروریات کے لیے کافی ہو، تو ایسی صورت میں شرعاً بیٹے پر ان کے نفقہ کی ذمہ داری لازم نہیں ہوگی۔ البتہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، ادب، احترام، خبرگیری اور استطاعت کے مطابق خدمت بہرصورت بیٹےپرلازم اور باعثِ اجر ہے۔
لہٰذا مذکور بیٹے کو چاہیے کہ ملازمت اور گھریلو ذمہ داریوں کے باوجود حتی المقدور والدین سے رابطہ رکھے، ان کی خیریت دریافت کرے، وقتاً فوقتاً ملاقات کا اہتمام کرے اور اگر مالی طور پر گنجائش ہو تو بطورِ احسان و صلہ رحمی کچھ تعاون بھی کر ے۔ تاہم اگر وہ اپنی محدود آمدنی کی وجہ سے مستقل مالی تعاون نہ کرسکے تو اس وجہ سے گناہ گار نہیں ہوگا۔
اسی طرح والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بیٹے کی معاشی اور عملی مجبوریوں کو سمجھیں، اس پر طعن و تشنیع اور ملامت سے اجتناب کریں، کیونکہ اولاد پر طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالنا اور اس کی دل آزاری کرنا مناسب نہیں۔
نیز ساس سسرکی بہو کے ساتھ بلاوجہ نفرت، تحقیر آمیز رویہ یا اذیت رسانی شرعاً اور اخلاقاً درست نہیں۔چنانچہ والدین کو چاہیے کہ وہ عدل، حسنِ اخلاق اور خیرخواہی کا رویہ اختیار کریں، جبکہ بہو اور بیٹے کو بھی صبر، احترام اور حکمت کے ساتھ معاملات کو سلجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
كمافي «سنن ابن ماجه» :عن جابر بن عبد الله، أن رجلا قال: يا رسول الله إن لي مالا وولدا، وإن أبي يريد أن يجتاح مالي، فقال: «أنت ومالك لأبيك(2/ 769 ت عبد الباقي)
وفي «حاشية السندي على سنن ابن ماجه» : وظاهر الحديث أن للأب أن يفعل في مال ابنه ما شاء، كيف وقد جعل نفس الابن بمنزلة العبد مبالغة، لكن الفقهاء جوزوا ذلك للضرورة. وفي الخطابي يشبه أن يكون ذلك في النفقة عليه بأن يكون معذورا يحتاج إليه للنفقة كثيرا، وإلا يسعه فضل المال، والصرف من رأس المال يجتاح أصله ويأتي عليه فلم يعذره النبي صلى الله عليه وسلم ولم يرخص له في ترك النفقة وقال له: أنت ومالك لوالدك على معنى أنه إذا احتاج إلى مالك أخذ منه قدر الحاجة كما يأخذ من مال نفسه، فأما إذا أردنا به إباحة ماله حتى يجتاح ويأتي عليه لا على هذا «الوجه، فلا أعلم أحدا ذهب إليه من الفقهاء(2/ 43)
وفي حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» : والظاهر أن المراد به ما كان من غير جنس النفقة، إذ لو كان يملك دون نصاب من طعام أو نقود تحل له الصدقة، ولا تجب له النفقة فيما يظهر؛ لأنها معللة بالكفاية، وما دام عنده ما يكفيه من ذلك لا يلزم غيره كفايته تأمل.»(3/ 628)
وفي البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري»:(قوله ولأبويه وأجداده وجداته لو فقراء) أي تجب النفقة لهؤلاء أما الأبوان فلقوله تعالى {وصاحبهما في الدنيا معروفا} [لقمان: 15] ، أنزلت في الأبوين الكافرين وليس من المعروف أن الابن يعيش في نعم الله تعالى ويتركهما يموتان جوعا، وأما الأجداد والجدات فلأنهما من الآباء والأمهات ولهذا يقوم الجد مقام الأب عند عدمه؛ ولأنهم تسببوا لإحيائه فاستوجبوا عليه الإحياء بمنزلة الأبوين وشرط الفقر؛ لأنه لو كان ذا مال فإيجاب النفقة في ماله أولى من إيجابها في مال غيره» (4/ 223)