السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ کیا ماں باپ سے بھی اولاد کے بارے میں سوال ہو گا کہ انہوں نے اپنے بچوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا اگر ایک ماں اپنے ایک بچے کی راز کی باتیں دوسرے بچوں سے شیئر کرتی ہو اور بچہ اپنی ماں پر یقین کر کے اسے اپنے دل کی باتیں بتاتا ہو ماں اسے فساد کی شکل میں آگے پھیلائے اپنی ہی اولاد کی برائیاں جگہ جگہ محافل میں یا خاندانوں میں کرے اور اصل میں وہ برائی اس کی اس بچے میں ہے بھی نہیں، تو اس بچے کے لئے کیا حکم ہے؟ بچہ احترام بھی کرتا ہو ، پیسے سے بھی والدین کی خدمت کرتا ہو اور ماں باپ اس بچے کو حقیر جانتے ہو تو اس بچے کے لیے کیا حکم ہے اگر بچہ چپ رہے تو کیا اس کو اجر ملے گا میرے والدین اور بھائی، بہن یہ سب کچھ کر رہے اور میں بہت برداشت کر رہی ہوں، کھبی کھبی دل کرتا ہے خوب جواب دوں، پر اللہ تعالی کے ڈر سے خاموش ہو جاتی ہوں، کیا مجھے اپنے حق کے لیے آواز اٹھانی چاہیے؟ یا خاموش رہنا چاہیے یا قطع تعلق کرنا چاہیے؟ ہر نماز میں ان کے لئے ہدایت اور صحت والی لمبی زندگی کی دعا بھی کرتی ہوں اللہ تعالی آپ سب کو اجر عظیم دے ۔
والدین سے بھی ان کے گناہوں کے متعلق باز پرس ہو گی، خواہ وہ گناہ اولاد سے متعلق ہوں یا کسی اور سے متعلق ، تاہم والدین سے انتقام کا جذبہ نہیں رکھنا چاہیے، ان کے لیے ہدایت اور مغفرت کی دعا کرنی چاہیے، اگر ان سے راز کی بات کرنے میں افشاء کرنے کا اندیشہ ہو تو آئندہ ان سے کوئی راز کی بات نہ کی جائے ، مگر اس سے ان کی جائز خدمت میں بھی کمی نہیں آنی چاہیے۔
كما في كلام الله تعالى: {فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا } [الإسراء: 23]
وفيه ايضاً: {وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا } [الأحقاف: 15]
و في صحيح البخاري: عن عبد الله بن عمرو، رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن من أكبر الكبائر أن يلعن الرجل والديه» قيل: يا رسول الله، وكيف يلعن الرجل والديه؟ قال: «يسب الرجل أبا الرجل، فيسب أباه، ويسب أمه» اھ (8/ 3) والله اعلم بالصواب