اولاد کے حقوق

والد کا اولاد کے حقوق ادا نہ کرنا

فتوی نمبر :
89835
| تاریخ :
2025-12-10
معاشرت زندگی / حقوق و فرائض / اولاد کے حقوق

والد کا اولاد کے حقوق ادا نہ کرنا

میری عمر 27 سال ہے۔ میرے والد نے دو شادیاں کی ہیں۔ پہلی بیوی اور اُس کے بچوں کی کفالت انہوں نے ہمیشہ درست طریقے سے ادا کی ہے، اور وہ اب بھی پہلی فیملی کے ساتھ ہی رہتے ہیں۔ جب میں 11 سال کا تھا، انہوں نے ہمیں چھوڑ دیا اور میری والدہ پر جھوٹا تہمت لگایا کہ وہ بدچلنی میں ملوث ہیں۔ بعد میں میری والدہ نے نوکری کی، اور میرے والد صرف میرے ہاسٹل کا خرچ دیتے تھے۔ میرا چھوٹا بھائی اُس وقت 5 سال کا تھا اور نانی کے گھر رہتا تھا، اُس کا خرچ والدہ ہی چلایا کرتی تھیں۔ 8 سال بعد میرے والد نے ہمیں دوبارہ ایک کرائے کا گھر دے کر تقریباً 10 سال تک کچھ نفقة (خرچ) چلایا، پھر وہ دوبارہ چلے گئے اور اب تک واپس نہیں آئے۔ وہ ایک بڑے کاروباری آدمی ہیں اور اُن کے پاس مال و دولت کی کوئی کمی نہیں۔
میں ایک چھوٹی موٹی نوکری سے ماہانہ 15 ہزار ٹکا کماتا ہوں، کرایہ دینے کے بعد تقریباً کچھ نہیں بچتا۔ وہ اب بھی پہلی فیملی کے ساتھ رہتے ہیں۔ شریعت کے مطابق اُن کا موقف یہ ہے کہ اُن پر ہماری کوئی ذمہ داری باقی نہیں رہی، اور حنفی فقہ کے مطابق بھی بالغ بیٹے کی کفالت کا والد پر کوئی شرعی وجوب نہیں ہوتا، اور اپنے مال کے بارے میں وہ جسے چاہیں دے سکتے ہیں۔ اسی بنیاد پر انہوں نے سارا مال پہلی فیملی کو ہبہ کر دیا ہے۔میں اپنی ماں، چھوٹے بھائی اور اپنے گھر کے اخراجات جیسے تیسے خود ہی برداشت کرتا ہوں، کیونکہ یہ میری ذمہ داری ہے۔میرا سوال یہ ہے:
1— اگر بالغ اولاد اپنے مالدار والد سے مالی طور پر کمزور ہو تو شریعت کا حل کیا ہے؟ (حالانکہ شرعی طور پر انہوں نے جو فیصلہ کیا، وہ درست سمجھا جاتا ہے)
2— اور انہوں نے اپنا مال ہبہ کرتے ہوئے شریعت کا لحاظ رکھا، لیکن ایسے لوگ جو میری طرح بے گھر ہوں یا مستقل رہائش نہ رکھتے ہو،تو کیا شریعت میں اُن کے لیے کوئی حل موجود ہے؟
3— وہ ہر سال بہت صدقات و خیرات کرتے ہیں۔ کیا ہمارا اُن صدقات کو لینا شرعاً جائز ہوگا؟
4— وہ ماضی میں بھی کئی مدارس کے طلبہ کا خرچ اٹھاتے رہے ہیں (جب کہ میرا چھوٹا بھائی میری والدہ ہی پالتی تھیں)، اور آج بھی بہت سے لوگوں کی کفالت کرتے ہیں۔اس طرزِ عمل کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟
5— وہ آخری بار گھر چھوڑنے کے بعد گزشتہ 6 سال سے میری والدہ سے کوئی بات نہیں کرتے، اور ہم سے بھی رابطہ رکھنے میں پریشانی محسوس کرتے ہیں۔ (اگرچہ شرعی طور پر وہ رابطہ رکھنے کے پابند نہیں)۔ ایسے حالات میں مجبور خواتین کے لیے شریعت کیا معاونت فراہم کرتی ہے؟
[خصوصی نوٹ: چونکہ بنگلہ دیش میں اکثریت حنفی فقہ کی پیروی کرتی ہے، اس لیے یہاں شریعت سے مراد حنفی فتاویٰ ہیں]

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ بیوی کانان ونفقہ شرعاًشوہرپرہی واجب ہوتاہے،خواہ اولادبالغ ہی کیوں نہ ہو۔اسی طرح اگربالغ اولادتنگ دست،بےگھریاشدیدمجبوری میں مبتلاءہوتومالدارباپ کاانہیں بالکل نظراندازکرناشرعاًناپسندیدہ،خلاف مروّت اورصلہ رحمی کے منافی ہے۔نیزنفلی صدقات وخیرات کاسب سے پہلا حق اہل خانہ کاہے؛لہذااپنی بیوی اور محتاج اولادکومحروم رکھ کرغیرمتعلقہ افرادیادیگرمصارف میں کثرت سے خرچ کرناشرعی اصولوں کےمنافی ہے۔ایسی صورت میں محتاج اولادکیلئےوالدکےمال سےنفلی صدقات لینابھی شرعاًجائزہے۔لہذاسائل کےوالدپرلازم ہےکہ اپنی بیوی کامکمل نان ونفقہ اداکرے،محتاج اوربقدراستطاعت ضرورت منداولادکی کفالت ورہائش کامناسب بندوبست کرے،اولاد کےدرمیان امتیازی سلوک اورقطع تعلقی جیسےامورسے اجتناب برتتےہوئےصلہ رحمی قائم رکھے،لہذاسائل کےوالدکامحض فقہی گنجائش کوبنیادبناکراپنی ذمہ داریوں سےغفلت برتنا اگرچہ بعض امورمیں شرعی طورپرانہیں بری الذمہ کردےگا،لیکن اخلاقی اور اخروی اعتبارسےسخت مؤاخذے کےخطرے سےخالی نہیں۔اس لیےسائل کےوالدکواپنےمذکور رویّےپرنظرثانی کرنےاوربیوی بچوں کی حق تلفی کرنےسےاجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی سنن ابی داؤد: عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من كانت له امرأتان فمال إلى إحداهما، جاء يوم القيامة وشقه مائل»اھ (ج:1،باب في القسم بين النساء،ص: 896،رقم الحدیث:2133،مکتبۃالبشری)
وفی الصحیح لمسلم رحمہ اللہ: عن النعمان بن بشير رضی اللہ عنہماقال:تصدق علي أبي ببعض ماله، فقالت أمي عمرة بنت رواحة: لا أرضى حتى تشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم. فانطلق أبي إلى النبي صلى الله عليه وسلم ليشهده على صدقتي، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: (أفعلت هذابولدك كلهم؟) قال: لا. قال :(اتقوا الله واعدلوا في أولادكم). فرجع أبي، فرد تلك الصدقة.(ج:2، باب كراهة تفضيل بعض الأولاد في الهبة، ص:874،رقم الحدیث:4180، مکتبۃ البشریٰ)
وفي جامع الترمذيّ: عن أبي مسعود الأنصاري عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «نفقة الرجل على أهله صدقة»اھ
وفیہ ایضاً: عن ثوبان رضی اللہ عنہ: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أفضل الدينار دينار ينفقه الرجل على عياله،ودينار ينفقه الرجل على دابته في سبيل الله، ودينار ينفقه الرجل على أصحابه في سبيل الله». قال أبو قلابة: بدأ بالعيال. ثم قال: فأي رجل أعظم أجرا من رجل ينفق على عيال له صغار يعفهم الله به ويغنيهم الله به.هذا حديث حسن صحيح.(ج:٢،باب ما جاء في النفقة على الأهل، رقم الحدیث: ١٩٦٢،١٩٦٣، مکتبۃ البشریٰ)
وفي بدائع الصنائع: وجملة الكلام فيه أن الرجل لا يخلو إما أن يكون له أكثر من امرأة واحدة وإما إن كانت له امرأة واحدة، فإن كان له أكثر من امرأة، فعليه العدل بينهن في حقوقهن من القسم والنفقة والكسوة، وهو التسوية بينهن في ذلك حتى لو كانت تحته امرأتان حرتان أو أمتان يجب عليه أن يعدل بينهما في المأكول والمشروب والملبوس والسكنى والبيتوتة.(ج:2، فصل وجوب العدل بين النساء في حقوقهن، ص:332، مط: سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اسلم امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89835کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • والد کااپنی اولادکے مال میں تصرف کرنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • بیوی بچوں پر خرچ کرنےکا ثواب اور فضیلت

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • والدین سے ان کی زندگی میں جائیداد میں حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • تین طلاقوں کے بعد ببچے کے حقِ پرورش کی تفصیلات

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • دین پر عمل کرنے والے کے لئےگھر والوں کا نامناسب رویہ اپنانا اور ناراض ہونا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • بالغ بیٹی کا خرچہ کس کے ذمہ لازم ہے؟

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • عبادت گزار ہونے کے ساتھ گھر والوں کو اذیت دینے والی ساس کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • والد کا اپنے بیٹے کو حرامی کہنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • والد کا اولاد سے سخت رویہ رکھنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • کیاوالد کا اپنے لین دین کے متعلق اولاد کو بتانا ضروری ہے؟

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • بچہ کا خرچہ نہ دینے کے بعد بچہ کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • والد کا زمین بیٹوں کو ہدیہ کرکے بیٹیوں کو محروم کرنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • باپ کا بیٹے کی زمین فروخت کرنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • اولاد کی تربیت کے خاطر مدرسہ بند کر دینا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • والدین اور بچوں کی بیماری کی دیکھ بھال نہ کرنااور تبلیغ پر بیرون ملک جانا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • والدین کے برے رویہ پر اولاد کیا کرے؟

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • اولاد کے درمیان, ہبہ و عطایا میں برابری و عدل کا حکم

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • بیوی کا سوتیلی بیٹی کی پرورش نہ کرنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • والد کا اپنی انا کی وجہ سے بیٹی کا گھر خراب کرنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • سوتیلے بیٹوں کو جائیداد دینے پر والد مرحوم کی جا ئیداد میں حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • بالغ ہونے کے بعد لڑکی کو والدین میں سے کسی کے پاس رہنے کا اختیار دینا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • سوتیلے بہن بھائیوں کا خرچہ اٹھانے کا حکم

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • بیٹے کے مطالبہ کے باجود والدین کا نکاح میں تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • والد کا اولاد کے حقوق ادا نہ کرنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
Related Topics متعلقه موضوعات