میں ایک ادارے میں جاب کرتا ہوں ۔میرا جاب ٹائٹل اےسٹیمیشن انجینئر ہے ۔جو ٹھیکیدار ادارے میں کام کرتے ہیں انہوں نے کام کرنے کے بعد اپنابل خود بنا کر جمع کرانا ہوتا ہے ۔اس بل کو بنانے کےلئے ٹھیکیدار کوایک ملازم رکھنا ہوتا ہے جس کو سیلری دینی پڑتی ہے ٹھیکیدار اپنی آسانی کےلئے ملازم نہیں رکھتا ۔اس ملازم کا کام مجھےکرنے کاکہتاہےاور کا معاوضہ مجھے دیتا ہے کیا یہ معاوضہ جو کام کرنے کی عوض مجھے دیتا ہے لینا جائز ہے یا پھر ناجائز ۔
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی ملازمت کی ذمہ داریوں میں ٹھیکیداروں کے بل تیار کرنا شامل نہ ہو، اور سائل اپنے ادارےکےاوقاتِ کار سے ہٹ کر یا متعلقہ ذمہ دارافرادکی اجازت کے ساتھ یہ اضافی کام انجام دیتاہو، تو اس کے بدلے ٹھیکیدار سے اجرت لینا جائز ہے۔
البتہ اگر یہ کام سائل کی ذمہ داریوں میں شامل ہویاوہ اپنی ملازمت کے اوقات میں مجازافراد کی اجازت کے بغیر انجام دیتاہو، یا سائل کے عہدے اور اختیارات کی وجہ سے ٹھیکیدارمذکورکام اسےدیکرکسی قسم کاخلاف ضابطہ فائدہ حاصل کرتاہو، تو ایسی صورت میں یہ کام کرنااوراس کے بدلے رقم لینا جائز نہیں ہوگا۔
کمافی حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» :(قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى.»(6/ 70)