السلام عليكم ورحمته اللہ وبرکاتہ !
مفتی صاحب جو دم والا پانی ہوتا ہے اس پہ بھی بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا ضروری ہے یا بغیر بسم اللہ کے بھی پی سکتے ہیں؟
واضح ہو کہ پانی پینے سے قبل "بسم اللہ "پڑھنا لازم اور ضروری نہیں بلکہ مستحب اور پانی کے آداب میں سے ہے،اور اس حوالے سے دم والے پانی اور بغیر دم والے پانی کا حکم یکساں ہے،لہذا دم کیا ہوا پانی پیتے ہوئے بھی " بسم اللہ "پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہئے۔
کما فی کوثر المعانی الدراری فی کشف خبایا صحیح البخاری:وأخرج الترمذي عن ابن عباس "سمّوا إذا أنتم شربتم، واحمدوا إذا أنتم رفعتم" وهذا يحتمل أن يكون شاهدًا لحديث أبي هريرة المذكور، ويحتمل أن يكون المراد به في الابتداء والانتهاء فقط.
وأخرج الترمذي وصححه والحاكم عن أبي سعيد أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن النفخ في الشراب. فقال رجل: القذاة أراها في الإناء. قال: "أهرقها". قال: فإني لا أروَى من نفس واحد. قال: فأَبِنِ القدح إذا عنَّ فيك"(ج:4ص:305،ط:موسسۃ الرسالۃ،بیروت)
استنجاء کے بعد ہاتھ دھونا - باتھ ٹب کو کھانے، پینے کے امور میں بھی استعمال کرنا
یونیکوڈ کھانے پینے کے آداب 0