ہمارے یہاں عام طور پر ڈکار آنے پر الحمد اللہ کہا جاتا ہے کسی نے کہا کہ ڈکار آنے پر الحمد اللہ نہیں کہنا چاہیۓ , اس مسئلہ میں شریعت کیا کہتی ہے؟ براہ کرم مطلع فرمائیں ۔
اگر چہ اس موقع پر کسی خاص ورد کا منقول ہونا تو ہمارے علم میں نہیں، تاہم اس کی آمد عموما کسی کھائی ہوئی چیز کے ہضم ہونے کی علامت ہوتی ہے اور یہ ایک قسم کی نعمتِ خداوندی ہے، اس لۓ اس کے بعد الحمد اللہ کہنے میں شرعاً کوئی حرج بھی نہیں ،بلکہ جائز اور درست ہے ۔
فی عمدة القاري شرح صحيح البخاري : فإن قلت ما الحكمة في قوله غفرانك إذا خرج من الخلاء قلت قد ذكروا فيه أوجها و أحسنها أنه إنما يستغفر من تركه ذكر الله تعالى مدة مكثه في الخلاء و يقرب منه ما قيل أنه لشكر النعمة التي أنعم عليه بها إذ أطعمه و هضمه فحق على من خرج سالما مما استعاذه منه أن يؤدي شكر النعمة في إعاذته و إجابة سؤاله و أن يستغفر الله تعالى خوفا أن لا يؤدي شكر تلك النعم اھ(2/ 273) ۔
استنجاء کے بعد ہاتھ دھونا - باتھ ٹب کو کھانے، پینے کے امور میں بھی استعمال کرنا
یونیکوڈ کھانے پینے کے آداب 0