بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسجد جس کانام شروع سے ہی مسجد پیر غلام عباس ہے۔ اس کا نام تبدیل کر کے مسجد صدیق اکبر رکھ دیا گیا۔ حضرت مولانا پیر سید غلام عباس شاہ صاحب رح جن کے نام پر مسجد ہے وہ علماء دیوبند کے بڑے عالم تھے۔ علاقہ بھر میں ان کی خدمات ہیں۔ان کے پوتوں نے اس مسئلہ پر اہل علاقہ سے جب اعتراض کیا تو مسجد والوں نے مسجد کا نام مسجد صدیق اکبر ہی رہنے دیا جب کہ علیحدہ سے ہلکے رنگ سے "بیاد پیر غلام عباس" لکھ دیا۔
آیا مسجد کا نام بغیر کسی وجہ کے تبدیل کرنا یا عباس نام کی وجہ سے تبدیل کرنا کیسا ہے؟ راہ نمائی فرما کر مشکور فرمائیں ۔
واضح ہو کہ مسجد کو کسی نام سے موسوم کرنا شرعاً جائز ہے اور عموماً اس کا مقصد تعارف اور ایک مسجد کو دوسری مساجد سے ممتاز کرنا ہوتا ہے، تاہم کسی خاص نام کا رکھنا شرعاً لازم نہیں ہوتا۔ لہٰذا اہلِ علاقہ اور سوال میں مذکور مسجد کی انتظامیہ کے لیے مناسب یہی تھا کہ مسجد کا سابقہ معروف نام برقرار رکھتے، تاکہ بلاوجہ اختلاف اور انتشار کی فضا پیدا نہ ہوتی۔ تاہم اگر کسی خاص وجہ سے انہوں نے مسجد کا نام تبدیل کرکے ’’مسجد صدیق اکبر‘‘ رکھ دیا ہے تو مرحوم عالمِ دین کے پوتوں کو بھی چاہیے کہ اسے نزاع اور اختلاف کا مسئلہ نہ بنائیں، تاکہ اس معاملے کی وجہ سے اہلِ علاقہ میں انتشار اور باہمی اختلافات پیدا نہ ہوں۔
کما فی الصحیح للبخاری: حدثنا عبد الله بن يوسف قال: أخبرنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر:أن رسول الله ﷺ سابق بين الخيل التي أضمرت: من الحفياء، وأمدها ثنية الوداع، وسابق بين الخيل التي لم تضمر من الثنية إلى مسجد بني زريق، وأن عبد الله بن عمر كان فيمن سابق بها. اھ (كتاب الصلاة، باب: هل يقال: مسجد بني فلان ج 1ص 91 ط: السلطانية)
وفی عمدة القاري شرح صحيح البخاري تحت ھذا الباب: أي: هذا باب في بيان إضافة مسجد من المساجد إلى قبيلة أو إلى أحد مثل بانيه أو الملازم للصلاة فيه، هل يجوز أن يقال ذلك؟ نعم يجوز، والدليل عليه حديث ابن عمر الآتي ذكره، وإنما ترجم الباب بلفظة: هل، التي للاستفهام لأن في هذا خلاف إبراهيم النخعي، فإنه كان يكره أن يقال: مسجد بني فلان، أو: مصلى فلان، لقوله تعالى: {وإن المساجد} (الجن: 18)، ذكره ابن أبي شيبة عنه، وحديث الباب يرد عليه، والجواب عن تمسكه بالآية أن الإضافة فيها حقيقة، وإضافتها إلى غيره إضافة تمييز وتعريف. حدثنا عبد الله بن يوسف قال: أخبرنا مالك عن نافع عن عبد الله بن عمر أن رسول الله سابق بين الخيل التي أضمرت من الحفياء وأمدها ثنية الوداع، وسابق بين الخيل التي لم تضمر من الثنية إلى مسجد بني زريق، وأن عبد الله بن عمر كان فيمن سابق بها. وفيه: جواز إضافة المسجد إلى بانيه وإلى مصل فيه، كما ذكرنا، وكذلك تجوز إضافة أعمال البر إلى أربابها ونسبتها إليهم، وليس في ذلك تزكية لهم اھ (4 / 158، 159، المكتبة الشاملة)