السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
برائے مہربانی ذیل کے سوال کے بارے میں اسلامی احکام کے مطابق مشورہ دیں: اگر کچھ نمازی گندے اور بدبودار کپڑے پہن کر مسجد میں نماز کے لیے آتے ہیں تو کیا ہم ان کے پاس نماز پڑھنے سے گریز کر سکتے ہیں اور بدبو کی وجہ سے جگہیں بدل سکتے ہیں کیونکہ ان کی بدبو سے ہمارا دماغ خراب ہو جاتا ہے اور ہم نماز پر توجہ نہیں دے سکتے؟ مجھے لگتا ہے کہ یہ ہر جگہ بہت عام رواج ہے، غربت یا کسی اور چیز کی وجہ سے نہیں... بس ان لوگوں کو عادت ہوتی ہے-
مسجد میں آنے والے نمازیوں کو اپنے بدن اور کپڑوں کو ہراس چیز سے پاک اور صاف رکھنے کا اہتمام ضروری ہے کہ جس کی بد بو سے دوسرے نمازیوں کو تکلیف پہنچ رہی ہو ، چناں چہ اس امر کی تاکید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد احادیث مبارکہ میں بھی فرمائی ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص اس کا اہتمام کئے بغیر مسجد آکر جماعت میں شریک ہوجاتاہے، اور اس کے برابر کھڑے ہونے والے نمازی کےلئے یکسوئی کے ساتھ اپنی نماز مکمل کرنا مشکل ہورہی ہو، تو ایسی صورت میں نماز شروع کرنے سے قبل یہ نمازی کسی دوسری جگہ نماز ادا کرسکتاہے، تاہم ایسے شخص کو حکمت کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ اس کے اس عمل کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو تکلیف نہ پہنچے۔
کما فی صحیح مسلم: عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ يَنْتَابُونَ الْجُمُعَةَ مِنْ مَنَازِلِهِمْ مِنَ الْعَوَالِي فَيَأْتُونَ فِي الْعَبَاءِ وَيُصِيبُهُمُ الْغُبَارُ، فَتَخْرُجُ مِنْهُمُ الرِّيحُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْسَانٌ مِنْهُمْ وَهُوَ عِنْدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَنَّكُمْ تَطَهَّرْتُمْ لِيَوْمِكُمْ هَذَا اھ (كتاب الجمعة)
وفیه ایضا: عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَكْلِ الْبَصَلِ، وَالْكُرَّاثِ، فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَةُ فَأَكَلْنَا مِنْهَا، فَقَالَ: مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الإِنْسُ اھ(كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1252)