السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میرا نام ۔۔۔۔ہے اور میں جامع مسجد ۔۔۔۔۔ اہل سنت والجماعت بریلوی مسلک سے تعلق رکھتا ہوں جامع مسجد ۔۔۔ میں ہم نے ایک مدرسے کا اہتمام کیا ہے، مدرسہ ہم اس جگہ پر بھی بنا رہے ہیں جہاں پر پہلے امام صاحب کا حجرہ ہوا کرتا تھا تو اس جگہ پر ہم مدرسہ بنا رہے ہیں بچیوں کے لئے سپریشن ہوگا مردوں کا اور بچوں کا اور بچیوں کا تو میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس جگہ پر ہم مدرسہ بنا سکتے ہیں؟
صورت مسئولہ میں جس جگہ امام کا حجرہ بنا ہوا تھا ، اگر وہ حصہ مسجد کے لیے موقوفہ زمین کا حصہ ہو ، تو ایسی صورت میں اس حجرہ کی جگہ مسجد کی ملکیت کہلائیگی ،اس لئے اس پر مدرسہ بنانا جائز نہیں بلکہ مدرسہ کے لیے الگ سے جگہ کا انتظام کرنا چاہیئے ،البتہ جب تک اس کے لیے مستقل جگہ کا انتظام نہیں ہوتا تو مسجد کے تابع ہوکر عارضی طور پر اس حجرے کو بطور مکتب چھوٹے بچوں ، بچیوں اور مرد حضرات کی تعلیم کے لئے استعمال میں لانے کی گنجائش ہے ، مگر اسے مستقل طور پر مدرسہ کیلئے مختص کرنا جائز نہیں ،اس سے اجتناب لازم ہے۔
وفي الدر المختار : ( ولو خرب ما حوله واستغنى عنه يبقى مسجدا عند الإمام والثاني ) أبدا إلى قيام الساعة
وفي رد المحتار قوله ( عند الإمام والثاني ) فلا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر سواء كانوا يصلون فيه أو لا وهو الفتوى حاوي القدسي (كتاب الوقف، ج:٤، ص: ٣٥٨، مط: سعيد)
وفي الهندية : قيم المسجد لا يجوز له أن يبني حوانيت في حد المسجد أو في فنائه لأن المسجد إذا جعل حانوتا ومسكنا تسقط حرمته وهذا لا يجوز والفناء تبع المسجد فيكون حكمه حكم المسجد كذا في محيط (الباب الحادي عشر في المسجد وما يتعلق بها ،ج: ٢ ، ص: ٤٦٢ ، مط : ماجدية )
وفي الهندية : البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناء ووقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعا لها فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه والأصح أنه لا يجوز كذا في الغياثية ( كتاب الوقف ج:٢ ص: ٣٦٢، ناشر : ماجدية)
وفي الهندية : الأحكام التي يشترك فيها الحيض والنفاس ثمانية منها أنه يحرم عليهما وعلى الجنب الدخول في المسجد سواء كان للجلوس أو للعبور هكذا في منية المصلي (احكام الحيض ج:١ ص:٣٦، ناشر: ماجدية)