ایک مسجد میں جمعہ اور دیگر نمازوں کے بعد نمازیوں سے عمومی چندہ اور عطیات جمع کیے جاتے ہیں۔ چندہ دیتے وقت کسی خاص مصرف (مثلاً صرف بجلی، تنخواہوں یا تعمیرات) کی صراحت نہیں کی جاتی، البتہ عرفاً یہ بات معروف ہے کہ یہ رقم مسجد کے مختلف اخراجات، مثلاً مرمت و دیکھ بھال، امام و مؤذن کی تنخواہوں، بجلی، پانی اور دیگر ضروریات پر خرچ کی جاتی ہے۔ نیز اگر ان بنیادی ضروریات کی تکمیل کے بعد کچھ رقم بچ جائے تو اسے مسجد سے متعلق دیگر دینی کاموں میں بھی صرف کیا جاتا ہے۔
اسی مسجد میں مسجد کمیٹی کے زیرِ انتظام ہر ماہ ایک اصلاحی مجلس منعقد ہوتی ہے، جس میں باہر سے علماء کرام کو دعوت دی جاتی ہے۔ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں وعظ و نصیحت کرتے ہیں، جس سے نمازیوں کی دینی تعلیم و تربیت اور اصلاح مقصود ہوتی ہے۔
اس مجلس میں شرکت کرنے والے علماء کرام کو مسجد کے اسی عمومی فنڈ سے ان کے آنے جانے کے سفری اخراجات ادا کیے جاتے ہیں اور بعض اوقات بطورِ ہدیہ کچھ رقم بھی دی جاتی ہے۔
مسجد کمیٹی کے بعض افراد کا موقف یہ ہے کہ مسجد کے عمومی فنڈ سے اس نوعیت کے اخراجات کرنا جائز نہیں، کیونکہ ان کے نزدیک یہ فنڈ صرف مسجد کی تعمیر، مرمت اور دیگر بنیادی ضروریات کے لیے مخصوص ہونا چاہیے۔
اب درج ذیل امور کے بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:
1. کیا مذکورہ صورت میں مسجد کے عمومی فنڈ سے اصلاحی مجلس کے لیے آنے والے علماء کرام کو سفری اخراجات اور بطورِ ہدیہ رقم دینا جائز ہے؟
2. کیا اس مصرف کو "مصالحِ مسجد" میں شمار کیا جا سکتا ہے؟
3. اگر چندہ دہندگان نے کسی خاص مصرف کی صراحت نہ کی ہو، لیکن عرفاً اس رقم کو مسجد کے دینی و اصلاحی کاموں میں بھی خرچ کیا جاتا ہو، تو کیا یہ "اذن دلالۃً" کے حکم میں ہوگا؟
یہ بھی واضح رہے کہ:
چندہ عمومی نوعیت کا ہوتا ہے اور کسی خاص مصرف کی تعیین نہیں کی جاتی۔
مسجد کی بنیادی ضروریات پہلے پوری کی جاتی ہیں۔
اصلاحی مجلس مسجد ہی میں، مسجد کمیٹی کی نگرانی میں منعقد ہوتی ہے۔
اس کا مقصد نمازیوں کی دینی تعلیم، اصلاح اور تربیت ہوتا ہے۔
براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں مذکورہ مسئلہ کی وضاحت فرما کر رہنمائی فرمائیں۔
یہ استفتاء بنگلہ دیش سے ارسال کیا جا رہا ہے، لہٰذا ممکن ہو تو جلد از جلد جواب عنایت فرمایا جائے۔
یونس حسین
ڈھاکہ، بنگلہ دیش
والسلام
واضح ہو کہ مسجد کے عمومی فنڈ سے عرف کے مطابق فقط مسجد کے مصالح پر خرچ کیا جاسکتا ہے، جبکہ مسجد میں باہر سے علماءِ کرام کو مدعو کرکے ان کے سفری اخراجات یا ہدایا وغیرہ دینا اگر معروف نہ ہو تو چندہ دہندگان کی طرف سے دلالۃً اس کی اجازت نہ ہوگی۔ لہٰذا سائل کے دیار میں اگر وقتاً فوقتاً نمازیوں کی اصلاح کے لیے علماءِ کرام کو بلانا اور انہیں اعزازیہ دینا معروف نہ ہو تو مسجد کے عمومی فنڈ سے ماہانہ اصلاحی مجلس کے لیے باہر سے آنے والے علماءِ کرام کے سفری اخراجات ادا کرنا یا انہیں بطورِ ہدیہ رقم دینا جائز نہیں۔
کمافی ردالمحتار:(4/433): شرط الواقف کنصّ الشارع.
وفی قانون العدل والانصاف:(34): شرائط الواقف معتبرۃ اذا لم تخالف الشرع.