میرا ایک سوال سرکاری نوکری کے بارے میں ہے، خاص طور پر کراچی میں Karachi Metropolitan Corporation (KMC) کے ایک ڈیپارٹمنٹ سے متعلق۔
اس نوکری میں بنیادی طور پر سڑکوں کی صفائی اور شہر میں نظم و ضبط برقرار رکھنے جیسے کام شامل ہوتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں اس نوکری کی نوعیت کچھ اس طرح ہے کہ ملازم کو کام پر جانا ضروری نہیں ہوتا، پھر بھی ہر مہینے تنخواہ اس کے اکاؤنٹ میں آ جاتی ہے۔کبھی کبھار اگر کوئی ایمرجنسی ہو یا رسمی طور پر بلایا جائے تو حاضر ہونا پڑتا ہے، لیکن عام حالات میں نہ دفتر جانا ضروری ہے اور نہ ہی کوئی عملی کام کرنا ہوتا ہے۔ میرے علم کے مطابق کراچی میں لوگ اسی طرح کی سرکاری نوکریاں حاصل کرنے کے لئے پیسے بھی دیتے ہیں، کیونکہ اس میں بغیر کام کے تنخواہ ملنا ایک بڑا فائدہ سمجھا جاتا ہے۔میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسی نوکری، جس میں انسان حقیقت میں کوئی کام نہ کرے اور صرف تنخواہ لیتا رہے، اسلام کی نظر میں حلال ہے یا حرام؟مزید یہ کہ میرے والد بھی اسی ڈیپارٹمنٹ میں سینئر سب انسپکٹر ہیں۔ کیا میرے لئے ایسی نوکری کرنا، جس میں بغیر کام کیے آمدنی حاصل ہو، شرعاً جائز ہے؟
واضح رہے کہ KMC (کے ایم سی) ایک سرکاری محکمہ ہے اور اس سے منسلک تمام افراد خواہ وہ افسرانِ اعلیٰ ہوں یا عام ملازم ،سب کے سب سرکاری ملازم ہیں ۔جبکہ سرکاری ملازم کی حیثیت اجیرِ خاص کی ہوتی ہے جس پر ،مفوَّضہ کام و ذمہ داری کو مقرَّرہ و مُتعینہ اوقات میں حاضر ہو کر پورا کرنا شرعاً لازم ہوتا ہے۔ اگر وہ اپنا کام اور اپنی ذمہ داری پوری کرتا ہے تو اس کے لیے تنخواہ حلال ہوگی ورنہ نہیں۔
جبکہ پیسے اور رشوت دے کر کوئی نوکری خریدنا بھی شرعاً ناجائز اور حرام ہے جس سے احتراز لازم ہے
کما فی صحيح مسلم: عن أبي هريرة؛ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أيها الناس! إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا. وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين. فقال: {يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا إني بما تعملون عليم}. [23 / المؤمنون/ الآية 51] وقال: {يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم} [2 / البقرة / الآية 172] ". ثم ذكر الرجل يطيل السفر. أشعث أغبر. يمد يديه إلى السماء. يا رب! يا رب! ومطعمه حرام، ومشربه حرام، وملبسه حرام، وغذي بالحرام. فأنى يستجاب لذلك؟(باب قبول الصدقۃ ج:2 ص:703 ط: دار احیاء التراث العربی۔بیروت)۔
و فی الدر المختار: (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهرا حيث يكون مشتركا إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعى لغيره فيكون خاصا وتحقيقه في الدرر وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل. الخ
و فی الشامیۃ تحت (قوله: وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا..... (قوله ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة. (كتاب الإجارة مطلب ليس للأجير الخاص أن يصلي النافلة ج:6 ص:69 ط:سعيد)۔
و فی رد المحتار تحت(قوله: أخذ القضاء برشوة) بتثليث الراء قاموس وفي المصباح الرشوة بالكسر ما يعطيه الشخص الحاكم وغيره ليحكم له أو يحمله على ما يريد،(الی قولہ)و في الفتح: ثم الرشوة أربعة أقسام: منها ما هو حرام على الآخذ والمعطي وهو الرشوة على تقليد القضاء والإمارة.(کتاب القضاء مطلب فی الکلام علی الرشوۃ ج:5 ص:362 ط: سعید)۔