السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
مفتی صاحب! آپ سے ایک مسئلے کے بارے میں فتویٰ چاہیے۔
صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ میرے والد نے میرا رشتہ اپنی بھانجی سے کرایا، ولیمے کے دوسرے دن دونوں خاندان میں جھگڑا ہوگیا، جس کی وجہ سے مجھے گھر سے الگ کردیا گیا۔ اب ہم میاں بیوی آپس میں اچھی زندگی گزار رہے ہیں، لیکن ہر وقت میری گھر والی کی والدہ ہمارے معاملات میں دخل اندازی کرتی ہے اور بات بات میں حدیث میں فلاں کام اس کے ذمے نہیں ہے، حدیث میں یہ شوہر پر لازم ہے، اس طرح کی باتیں کرتی رہتی ہے، اپنے مفاد کی باتوں کو حدیث بنا بنا کر پیش کرتی ہے۔
اب میری گھر والی کی طبیعت ناساز ہے تو میں اس کا علاج بھی کرا رہا ہوں، دو دن بعد 5000 علاج کا خرچہ، چار دن بعد 4000 خرچہ، پھر اس کے لیے پھل فروٹ کا خرچہ، سب برداشت کررہا ہوں، لیکن ایک پیسہ بھی کسی سے نہیں لیا۔ اس کو کچھ بھی ہوتا ہے، اس کی والدہ فوراً کال کرکے اسے بلالیتی ہے، پھر وہ جانے کے لیے ضد کرتی ہے، پھر میں بھی تھوڑا نرم ہوجاتا ہوں اور اس کے گھر میں چھوڑ کر آجاتا ہوں۔ اب میں 35000 پینتیس ہزار کا مقروض ہوں، جو اس کے لیے خرچہ ہوا۔ اب ہسپتال سے واپس گھر آگئے، لیکن میری گھر والی ابھی تک اپنی ماں کے گھر ہے۔ اب میرا کھانے پینے کا نظام خراب ہوا پڑا ہے، کبھی کھانا کھایا تو کبھی نہیں کھایا، کبھی تو کھانا کھائے بغیر سو جاتا ہوں۔
اب ٹائم ٹائم پہ مجھے وہاں سے کال آتی ہے اور کہتی ہے کہ اس کے اخراجات پورے کرو، تو میں نے ان سے کہا کہ مجھے مدرسے سے جو وظیفہ ملتا ہے، اس سے میں تھوڑا تھوڑا کر کے قرض اتار رہا ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ مجھے باہر سے کھانا بھی کھانا ہوتا ہے۔ میرے پاس فی الحال اتنا پیسہ نہیں ہے کہ میں خود بھی باہر سے کھاؤں اور اس کے اخراجات بھی پورے کروں۔ آپ لوگ ایک کام کریں کہ اپنی بیٹی، یعنی میری بیگم کو میرے گھر میں چھوڑ دو، تو اس سے یہ ہوگا کہ میں جو باہر سے کھانا کھا رہا ہوں، اسی سے دونوں کا کھانا ہو جائے گا اور گھر میں پکانے سے دو پیسے بچتے بھی ہیں تو اسی پیسے سے اس کے لیے پھل فروٹ اور دوائی وغیرہ کے اخراجات پورے ہو جائیں گے۔ تو وہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اپنی بیٹی کو نہیں بھیجیں گے، حالانکہ میں دوائی کے تمام اخراجات پورے بھی کررہا ہوں اور جس وقت ہسپتال میں میرے مدرسے کے مکمل وظیفہ خرچ ہوا تھا، اس کے علاوہ میں نے کسی سے پانچ ہزار ادھار لیا تھا، وہ بھی خرچ ہو گیا۔ اس کے بعد میرے پاس پیسے نہیں تھے تو میری گھر والی کی والدہ نے اپنی طرف سے 8000 خرچ کیا تھا، اور یہ خرچہ اور میری گھر والی کے ایک ایک گولی کا خرچہ اپنے پاس کاپی میں لکھ کر رکھا ہوا ہے تاکہ مجھ سے لے سکیں۔
اب مجھے بات بات میں پیسے کے طعنے دیتی ہیں، تو میں نے ان سے کہا کہ پھوپھی! جب میں نے شروع سے آپ لوگوں سے ایک پیسہ نہیں لیا تو بات بات میں کیوں پیسے کا طعنہ دیتی ہو؟ اگر میرے پاس پیسے آئے گا تو میں آپ کو وہ پیسہ دے دوں گا۔ اس طرح باتوں باتوں میں میری ساس نے میرے والدین کو برا بھلا کہا تو میں نے ان کو کہا کہ جب شروع سے میرے ماں باپ آپ لوگوں کے درمیان نہیں ہیں تو ان کو کیوں بیچ میں لاکر برا بھلا کہہ رہی ہو؟ تو میری ساس نے کہا کہ میں صحیح کہہ رہی ہوں، ہزار دفعہ کہوں گی، اور حدیث کے اعتبار سے میری بیٹی پر لازم نہیں ہے کہ وہ تمہارے ماں باپ کی خدمت کرے اور حدیث میں ہے کہ بیوی کی ایک ایک چیز پورا کرنا شوہر پر لازم ہے۔ اور بھی بہت کچھ کہا، تو مجھے بھی غصہ آگیا، تو میں نے کہا جب ہر چیز میں آپ لوگ شریعت کے مطابق عمل کر رہی ہو تو اس پر بھی عمل کرو کہ جب آپ کی بیٹی بیمار ہو تو اس کا علاج آپ لوگ کراؤ۔ آپ کی بیٹی کا علاج کرانا تو مجھ پر لازم نہیں ہے۔ تو ان کے بیٹے نے کہا کہ حدیث کے مطابق اس کی بیماری کا علاج کرانا شوہر پر لازم ہے، حالانکہ وہ خود بھی ایک عالم ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ بیوی کے علاج کا خرچہ شرعاً شوہر پر لازم ہے یا ان کے والدین پر؟
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو تو سائل کی ساس کا سائل اور اس کی بیوی کی زندگی میں بے جا مداخلت کرنا، بار بار سائل کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا اور سائل کے والدین کے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کرکے انہیں تکلیف دینا شرعاً ناجائز اور میاں بیوی کے بنے بنائے گھر کو اجاڑنے کے مترادف ہے، جس پر سائل کی ساس کو توبہ و استغفار اور آئندہ کے لیے ایسے امور سے اجتناب لازم ہے، جبکہ شریعتِ مطہرہ میں جس طرح شوہر کے والدین کی خدمت وغیرہ دیگر امور بیوی کے ذمے قضاءً لازم نہیں کیے گئے، اسی طرح بیوی کی عمومی بیماری کے علاج معالجے کی ذمہ داری شوہر پر نہیں ڈالی گئی، لیکن گھر کے نظام کو بحال رکھنے اور میاں بیوی کے درمیان حسنِ معاشرت کے طور پر اہلِ علم نے ساس سسر کی خدمت وغیرہ دیگر امورِ خانہ داری بیوی کی اخلاقی ذمہ داری قرار دی ہے، اسی طرح معاصر اہلِ علم نے اخلاقاً شوہر کے ذمے اس کی استطاعت کے مطابق بیوی کے علاج معالجے کو لازم قرار دیا ہے، لہٰذا سائل، سائل کی بیوی اور اس کے اہلِ خانہ کو چاہیے کہ شرعی مسائل و احکام میں ایک دوسرے کے ساتھ بحث و مباحثہ کرنے اور ان مسائل میں الجھ کر گھریلو ماحول کو بگاڑنے کے بجائے اعلیٰ اخلاق اور حسنِ معاشرت کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے ایک دوسرے کے حقوق اپنی استطاعت کے مطابق ادا کرنے کی کوشش کریں۔
کما فی الدر المختار: وفي الخانية مرضت عند الزوج فانتقلت لدار أبيها إن لم يمكن نقلها بمحفة ونحوها فلها النفقة وإلا لا، كما لا يلزمه مداواتها………وفيه: أجرة القابلة على من استأجرها من زوجة وزوج، ولو جاءت بلا استئجار قيل: عليه، وقيل: عليها. (3/ 579-575)
وفی رد المحتار: قوله (كما لا يلزمه مداواتها) أي إتيانه لها بدواء المرض ولا أجرة الطبيب ولا الفصد ولا الحجامة، هندية عن السراج، والظاهر أن منها ما تستعمله النفساء مما يزيل الكلف ونحوه، وأما أجرة القابلة فسيأتي الكلام عليها………قوله ( قيل عليه الخ ) عبارة البحر عن الخلاصة: فلقائل أن يقول: عليه؛ لأنه مؤنة الجماع، ولقائل أن يقول: عليها كأجرة الطبيب اه. وكذا ذكر غيره، ومقتضاه أنه قياس ذو وجهين لم يجزم أحد من المشايخ بأحدهما خلاف ما يفهمه كلام الشارح، ويظهر لي ترجيح الأول؛ لأن نفع القابلة معظمه يعود إلى الولد فيكون على أبيه، تأمل. (3/ 580-575)
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: نفقات العلاج: قرر فقهاء المذاهب الأربعة أن الزوج لا يجب عليه أجور التداوي للمرأة المريضة من أجرة طبيب وحاجم وفاصد وثمن دواء، وإنما تكون النفقة في مالها إن كان لها مال، وإن لم يكن لها مال، وجبت النفقة على من تلزمه نفقتها؛ لأن التداوي لحفظ أصل الجسم، فلا يجب على مستحق المنفعة، كعمارة الدار المستأجرة، تجب على المالك لا على المستأجر، وكما لا تجب الفاكهة لغير أدم.
ويظهر لدي أن المداواة لم تكن في الماضي حاجة أساسية، فلا يحتاج الإنسان غالباً إلى العلاج؛ لأنه يلتزم قواعد الصحة والوقاية، فاجتهاد الفقهاء مبني على عرف قائم في عصرهم. أما الآن فقد أصبحت الحاجة إلی العلاج کالحاجة إلی الطعام والغذاء، بل أهم؛ لأن المریض يفضل غالباً ما يتداوى به على كل شيء، وهل يمكنه تناول الطعام وهو يشكو ويتوجع من الآلام والأوجاع التي تبرح به وتجهده وتهدده بالموت؟! لذا فإني أرى وجوب نفقة الدواء على الزوج كغيرها من النفقات الضرورية، ومثل وجوب نفقة الدواء اللازم للولد على الوالد بالإجماع، وهل من حسن العشرة أن يستمتع الزوج بزوجته حال الصحة، ثم يردها إلى أهلها لمعالجتها حال المرض؟!. وأخذ القانون المصري (م100) لسنة 1985م برأي في الفقه المالكي أن النفقة الواجبة للزوجة تشمل الغذاء والكسوة والمسكن ومصاريف العلاج وغير ذلك بما يقضي به الشرع، وأخذت المحاكم بهذا. (10/ 110)