شوهر و بیوی کے حقوق

نفقہ نہ ملنے پر عورت میکے میں بیٹھی رہے تو وہ ناشزہ شمار ہوگی؟

فتوی نمبر :
94275
| تاریخ :
2026-04-16
معاشرت زندگی / ازدواجی مسائل / شوهر و بیوی کے حقوق

نفقہ نہ ملنے پر عورت میکے میں بیٹھی رہے تو وہ ناشزہ شمار ہوگی؟

میری شادی ایک ایسے شخص سے ہوئی جو کہ مفتی اور امامِ مسجد ہے۔ وہ پہلے سے شادی شدہ ہے اور ان کی پہلی بیوی اور پانچ بچے موجود ہیں۔ شادی کےشروع سے ہی ہمارے درمیان بہت زیادہ لڑائیاں شروع ہو گئیں۔ میرے شوہر ہر بات پر اپنی حکمرانی اور ”حاکم“ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، حالانکہ ان باتوں کا نہ شوہر کی اطاعت سے کوئی تعلق ہوتا ہے اور نہ ہی شریعت سے۔ ابھی صرف شادی کو ڈیڑھ ماہ ہی ہوا تھا کہ ہمارے جھگڑے کے دوران میرے شوہر نے مجھے بہت زیادہ مارا، یہاں تک کہ میرے منہ پر نیل اور گلا دبانے کی صورت میں گلے پر واضح نشانات پڑ گئے ،اسی دوران نیچے کے مالک مکان کے آنے پر مارپیٹ رک گئی۔ میرے شوہر نے مالک مکان سے کہا کہ ”میں نماز پڑھا کر آتا ہوں، پھر اسے گھر چھوڑ دوں گا“۔ میں اس واقعہ کے بعد بہت خوفزدہ تھی کہ مالک مکان کے جانے کے بعد وہ دوبارہ مجھے مارے پیٹے یا کہیں قید نہ کر دے۔ اس خوف کی وجہ سے میں نے اپنے گھر فون کر دیا کہ آ کر مجھے لے جائیں، کیونکہ میں ان کے ساتھ نہیں جانا چاہتی تھی۔ اس پر میرے گھر والے آ گئے، اور میرے جیٹھ اور شوہر بھی آ گئے۔ سب کے سامنے بات ہوئی تو میرے شوہر نے کہا کہ ”میں نے نہیں مارا“، جس پر میں نے کہا کہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھا لیں ،تو میں خاموشی سے چلی جاؤں گی۔ کچھ بحث کے بعد اس نے سرسری طور پر مارنے کا اقرار کر لیا۔ اس کے بعد میرے جیٹھ نے کہا کہ لڑکی کو ہسپتال لے جا کر دکھایا جائے اور پھر بعد میں بات ہوگی۔ اس کے بعد معاملہ پولیس اسٹیشن تک گیا۔ پولیس نے اپنی طرف سے کارروائی کرتے ہوئے شوہر کو بلانے کی کوشش کی، لیکن چونکہ ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تھی ،اس لیے وہ نہ آئے اور نہ ہی کوئی خاص ردعمل دیا۔ بعد میں بھی پولیس انسپکٹر نے فون کر کے بلایا، مگر وہ نہ آئے اور ان کے وکیل نے فون پر کہا کہ میرا کلائنٹ عدالت میں ہے اور لڑکی کو طلاق بھیج رہا ہے، اب جو بات کرنی ہے عدالت میں آ کر کریں۔ اس کے باوجود دو ماہ تک طلاق نہیں دی گئی۔ پھر میرے شوہر نے مجھے میسج کیا کہ تم کیا چاہتی ہو؟ میں نے جواب دیا کہ آپ خود آ کر بات کریں اور عزت کے ساتھ مجھے لے جائیں، مگر وہ نہ آئے۔ میرے گھر والے بھی بار بار کہتے رہے کہ آ کر بات کر لیں، لیکن وہ کبھی کوئی شرط رکھ دیتے، کبھی انکار کر دیتے۔ کبھی کہتے کہ فلاں ماموں کو بھیجو، کبھی کہتے کہ میں تمہاری امی اور بڑے بھائی سے بات نہیں کروں گا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ایک کاغذ لاؤں گا جس میں میری شرائط ہوں گی، اس کے بعد ہی تمہیں لے کر جاؤں گا۔ جب میں نے ان سے نکاح نامہ مانگا تو انہوں نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ تم لالچی ہو، کبھی کہتے کہ نکاح نامہ گم ہو گیا ہے۔ میرے نکاح نامہ میں ایک لاکھ روپے حق مہر اور طلاق کی صورت میں پانچ تولہ سونا درج ہے، غالباً اسی وجہ سے وہ نہ طلاق دے رہے ہیں اور نہ ہی مجھے لے جا رہے ہیں۔ جس گھر میں ہم رہ رہے تھے ،وہ بھی اس جھگڑے کے بعد خالی کر دیا گیا ہے، جب کے ہم نے منع بھی کیاکہ پہلے بات کرلی جائے ابھی گھر خالی نہ کریں اور اب میرے لیے کوئی رہائش بھی موجود نہیں ہے۔ اس کے باوجود وہ کبھی مجھ سے ملتے ہیں ، مجھے ملنے بھی بلاتے ہیں اور میں چلی بھی جاتی ہوں اور وہ مجھ سے پیار سے بات کرتے ہیں جیسے سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہو، وہ گھر کی تو بات تو کرتے ہیں پر جب بھی لے جانے کی بات ہوتی تو اسٹور روم نما مسجد کا کمرہ جس میں زندگی نہیں گزاری جا سکتی، اُس میں آنے کا کہتے ہیں کہ ا بھی حالات نہیں اور نہ ہی دوسری رہائش کا کوئی انتظام کرتے ہیں۔ اور آگے سے شرطیں رکھتے رہتے ہیں اور یہ واضح کردوں کے حالات بالکل خراب نہیں ہے کیونکہ سارے خرچے صحیح چل رہے ہیں پہلی بیگم کےاور ابھی گاڑی بھی لے لی ہے،جب میں اپنے نان نفقہ کا مطالبہ کرتی ہوں، یہ کہہ کر کہ میں آٹھ ماہ سے واپس جانے کے لیے تیار ہوں مگر آپ اپنی ناراضگی اور ضد کی وجہ سے مجھے لے کر نہیں جا رہے، تو وہ کہتے ہیں کہ تم خود گھر سے گئی ہو ،اس لیے میں نان نفقہ نہیں دوں گا۔مجھ پر کوئی فرض نہیں ہے حالانکہ میرا مؤقف یہ ہے کہ میں نافرمانی کی وجہ سے نہیں بلکہ شدید مارپیٹ اور جان کے خوف کی وجہ سے آئی تھی، اور اب بھی واپسی کے لیے تیار ہوں۔ **سوال** مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ: (1) کیا ایسی صورت میں جبکہ بیوی شوہر کی شدید مارپیٹ اور جان کے خوف کی وجہ سے گھر سے آئی ہو، اور اب بھی واپس جانے کے لیے تیار ہو، اسے ”ناشزہ“ قرار دیا جائے گا یا نہیں؟ (2) کیا ایسی حالت میں جب شوہر خوداپنی ضد آور ناراضگی کی وجہ سے نہ لے کر جا رہا ہوتو شوہر پر بیوی کا نان نفقہ دینا شرعاً واجب ہے یا نہیں؟ (3)کیا شوہر کا یہ کہنا کہ ”تم خود گھر سے گئی ہو اس لیے نان نفقہ نہیں دوں گا“ درست ہے؟ کیا میرا نان نفقہ مانگنا جائز ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگر سائلہ اپنے شوہر کے گھر سے اس کی مارپیٹ اور تشدد کی وجہ سے اپنے میکے چلی گئی ہو، اور بعد میں شوہر کے پاس واپس جانے اور اسے واپس بلانے کے حوالے سے دونوں کے درمیان بات چیت بھی ہوئی ہو، لیکن شوہر باوجود استطاعت کے مناسب رہائش کا انتظام نہ کررہاہوجس کی وجہ سے سائلہ اپنے میکے میں ٹھہری ہو، تو ایسی صورت میں سائلہ شرعاً ناشزہ شمار نہیں ہوگی، بلکہ سائلہ کا اپنے شوہر سے نفقہ کا مطالبہ کرنا بھی درست ہوگا اور شوہر پر اس کا نفقہ ادا کرنا بھی لازم ہوگا۔ البتہ اگر نان و نفقہ کی مقدار بوقت نکاح یا بعد میں باہمی رضامندی سے مقرر اور طے نہ کی گئی ہوتو زمانہ گزشتہ کے نان ونفقہ کا مطالبہ کرنا سائلہ کے لئے درست نہ ہوگا۔جبکہ شوہر پر لازم ہے کہ جلد از جلد سائلہ کے لئےرہائش کا انتظام کرکے حسب استطاعت اس کے تمام حقوق کی ادائیگی کا اہتمام کرے ورنہ مواخذہ اخروی سے سبکدوشی نہ ہوسکے گی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدرالمختار: (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح،(الی قولہ) (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس، وكل محبوس لمنفعة غيره يلزمه نفقته الخ (باب النفقۃ، ج:3، ص:572، ط: سعید)
و فی المحيط البرهاني: لمعنى في ذلك أن النفقة إنما تجب عوضاً عن الاحتباس في بيت الزوج ، فإذا كان الفوات لمعنى من جهة الزوج أمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقياً تقديراً ، أما إذا كان الفوات بمعنى من جهة الزوجة لا يمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقياً تقديراً و بدونه لا يمكن إيجاب النفقة(الفصل الأول في نفقة الزوجات،ج: 3،ص: 522، ط: دارالکتب العلمیۃ)
وفی بدائع الصنائع: ( فصل ) : وأما شرط وجوب هذه النفقة(الی قولہ) فتسليم المرأة نفسها إلى الزوج وقت وجوب التسليم ونعني بالتسليم : التخلية، وهي أن تخلي بين نفسها وبين زوجها برفع المانع من وطئها أو الاستمتاع بها حقيقةً إذا كان المانع من قبلها، أو من قبل غير الزوج، فإن لم يوجد التسليم على هذا التفسير وقت وجوب التسليم ؛ فلا نفقة لها. وعلى هذا يخرج مسائل : إذا تزوج بالغةً حرةً صحيحةً سليمةً ونقلها إلى بيته فلها النفقة؛ لوجود سبب الوجوب وشرطه، وكذلك إذا لم ينقلها وهي بحيث لا تمنع نفسها وطلبت النفقة ولم يطالبها بالنقلة فلها النفقة ؛ لأنه وجد سبب الوجوب وهو استحقاق الحبس، وشرطه وهو التسليم على التفسير الذي ذكرنا، فالزوج بترك النقلة ترك حق نفسه مع إمكان الاستيفاء، فلا يبطل حقها في النفقة، فإن طالبها بالنقلة فامتنعت، فإن كان امتناعها بحق بأن امتنعت لاستيفاء مهرها العاجل ، فلها النفقة ؛ لأنه لا يجب عليها التسليم قبل استيفاء العاجل من مهرها ، فلم يوجد منها الامتناع من التسليم وقت وجوب التسليم۔الخ(فصل في شرط وجوب هذه النفقة، ج: 4، ص:18، ط: سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالمجید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94275کی تصدیق کریں
0     10
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • شادی کے بعد بیوی کے نام کے ساتھ شوہر کا نام لگانا

    یونیکوڈ   اسکین   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیابیوی اپنے شوہر سے جیب خرچی مانگ سکتی ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • شوہر بیوی کی دلجوئی کے لئے میک اپ کرواسکتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیابیوی شوہرکے مطالبے پر بالوں پر ہرارنگ کرسکتی ہے

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیا شوہر اجازت دے تو بیوی روزانہ اپنے والدین کو ملنے جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • بیوی پر ہاتھ اٹھانا اور مارپیٹ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 5
  • دیور کا بھابھی پر ہاتھ اٹھانا اور مارپیٹ کرنا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • لڑکی کے جہیز کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • سسرال والوں کا بہو سے گھر کا سارا کام لینا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 2
  • بیوی کا شوہر سے الگ گھر کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • نکاح نامے میں بطور حق مہر سونے کی مقدار لکھی جائے یا مالیت؟

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 1
  • میاں بیوی کے تنازع کا حل

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • شادی کے موقع پر لڑکی کو دیے گئے زیورات کا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • اگر ساس بہو کو ناجائز تنگ کرے تو بیٹے کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • شوہر کے والدین کی خدمت کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • عرصہ سات سال سے بیوی کے ساتھ بات چیت نہ کرنے والے کا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • نافرمان بیوی کے شوہر کیلئے حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیا پہلی بیوی شوہر کو دوسری بیوی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے سے منع کر سکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیا بیوی پر شوہر کی ہر بات ماننا لازم ہے؟

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • بیوی کے ہمبستری کے مطالبہ پر شوہر کا منع کرنا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • ازدواجی حقوق اور نان و نفقہ ادا نہ کرنے والے شوہر سے علیحدگی اختیار کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 1
  • گھریلو معاملات درست نہ ہونے پر بیوی کا شوہر سے الگ گھر کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 1
  • دو شادیاں کرنے کی صورت میں ہر ایک بیوی کے حقوق

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • شوہر کے حقوق ادا نہ کرنے والی بیوی کیلئے حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
Related Topics متعلقه موضوعات