السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے آپ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے خیریت سے ہوں گے۔میرا آپ سے یہ سوال ہے کہ اگر سوشل میڈیا کے کسی پلیٹ فارم پر کسی کی معلوماتی ویڈیوز عوامی طور پر (Freely Available) موجود ہوں اور ان پر کاپی رائٹ وغیرہ کا کوئی مسئلہ نہ ہو، تو کیا ان ویڈیوز کو ایک پلیٹ فارم (مثلاً ٹک ٹاک یا یوٹیوب) سے لے کر دوسرے پلیٹ فارم (مثلاً فیس بک) پر اپ لوڈ کر کے ان سے آمدنی (Earning) حاصل کرنا شرعاً جائز ہے؟
واضح رہے کہ ان ویڈیوز میں نہ موسیقی ہوتی ہے، نہ فحاشی، نہ جانداروں کی تصاویر یا ویڈیو ہوتی ہے، بلکہ وہ صرف معلوماتی نوعیت کی ہوتی ہیں۔براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرما دیں کہ ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر غیر شرعی امور( میوزک، فحش مواد وغیرہ )سے پاک ویڈیوز اپلوڈ کرنا جائز اور درست ہے، جب کہ ان ویڈیوز پر اشتہارات چلا کر اس کے ذریعے پیسے کمانے کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ جو اشتہارات غیر شرعی امور پر مشتمل نہ ہوں اور نہ ہی ان کے ذریعے کسی حرام پروڈکٹ یا عمل کی تشہیر ہوتی ہو تو اپنی ویڈیوز پر ایسے اشتہارات چلانے اور اس کے ذریعے حاصل شدہ کمائی کو اپنے استعمال میں لانے کی بھی اجازت ہے۔البتہ جو اشتہارات غیر شرعی امور پر مشتمل ہوں یا ان کے ذریعے کسی حرام پروڈکٹ یا عمل کی تشہیر ہوتی ہو یا وہ پروڈکٹ ہوں تو حلال، لیکن اس کی تشہیر میں کسی میوزک یا عورت کی تصاویر استعمال کی ہوں تو ایسی صورت میں اپنی ویڈیوز پر اپنے اختیار سے ایسے اشتہارات چلانا جائز نہیں۔ اور ایسی صورت میں ان اشتہارات کے ذریعے حاصل شدہ کمائی کو اپنے استعمال میں لانا بھی درست نہیں۔ البتہ اگر کوئی شخص اپنے ویڈیوز پر چلائے جانے والےغیر شرعی امور پر مشتمل اشتہارات کو روکنے کے لیے اپنی تمام ممکنہ تدابیر اختیار کر لے اور اس کے باوجود بھی پلیٹ فارمز والوں کی طرف سے ویڈیوز پر غیر شرعی امور پر مشتمل اشتہارات چلائے جاتے ہوں تو ایسی صورت میں امید ہے کہ اکاؤنٹ بنانے والا اس گناہ میں شریک نہ ہوگا۔ البتہ ایسی صورت میں بھی ”ایڈز ریویو سینٹر “کے ذریعے تفصیلات معلوم کرکے غیر شرعی اشتہارات کے ذریعے حاصل شدہ آمدنی کو اپنے استعمال میں لانے کے بجائے صدقہ کرنا چاہئیے۔ تاہم اگر اس کے باوجود بھی غیر شرعی اشتہارات کے ذریعے حاصل شدہ آمدنی کی مکمل تمیز نہ ہو سکے تو غالب گمان کے مطابق کچھ رقم صدقہ کرنا چاہئیے۔لہذا صورت مسئولہ میں بھی اگر سائل مذکورہ بالاشرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر کسی کی معلوماتی ویڈیوز جس کی اپلوڈ کرنے کی دوسروں کو بھی اجازت ہو، اپلوڈ کرکے اس کے ذریعہ آمدن حاصل کرے تو یہ اس کے لیے جائز ہوگا۔
و في الدر المختار: صوت اللهو والغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء النبات. قلت: وفي البزازية استماع صوت الملاهي كضرب قصب ونحوه حرام لقوله عليه الصلاة والسلام استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر أي بالنعمة فصرف الجوارح إلى غير ما خلق لأجله كفر بالنعمة لا شكر فالواجب كل الواجب أن يجتنب كي لا يسمع لما روي «أنه عليه الصلاة والسلام أدخل أصبعه في أذنه عند سماعه اھ ( کتاب الحظر و الاباحۃ ج:6 ص:348 ط: سعید کراتشی)۔
و فیہ ایضاً: (و) جاز (إجارة بيت بسواد الكوفة) أي قراها (لا بغيرها على الأصح) وأما الأمصار وقرى غير الكوفة فلا يمكنون لظهور شعار الإسلام فيها وخص سواد الكوفة، لأن غالب أهلها أهل الذمة (ليتخذ بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر) وقالا لا ينبغي ذلك لأنه إعانة على المعصية وبه قالت الثلاثة زيلعي الخ (فصل فی البیع ج:6 ص:392 ط: سعید کراتشی)۔
و فی الفتاوی الھندیۃ: وإذا استأجر الذمي من المسلم دارا يسكنها فلا بأس بذلك، وإن شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أو أدخل فيها الخنازير ولم يلحق المسلم في ذلك بأس لأن المسلم لا يؤاجرها لذلك إنما آجرها للسكنى. كذا في المحيط. الخ (مسائل الشیوع فی الاجارۃ ج:6 ص:450 ط: دار الفکر ۔ بیروت)۔
و في فقه البيوع: ولكن معظم استعمال التلفزيون في عصرنا في برامج لا تخلو من محظور شرعي وعامة المشترين يشترونه لهذه الأغراض المحظورة من مشاهدة الأفلام والبرامج الممنوعة وإن كان هناك من لا يقصد به ذلك فبما أن استعماله في مباح في مباح ممكن فلا نحكم بالكراهة التحريمية في بيعه مطلقًا إلا إذا تعين بيعه لمحظور ولكن نظرًا لمعظم استعماله لا يخلو من كراهة تنزيهية الخ(ج1 ص335)