میں محمد معزودین ولدیت صابرین خٹک قسطوں کا کام کرتا ہوں ،اور میرے پاس کوئی چیز موجود نہیں ہوتی، اب جیسے کسی نے کہا کہ موبائل چاہیے، اب موبائل کی قیمت مارکیٹ میں 40000 روپے ہے، اب ہم دونوں کا یہ طے پایا گیا کہ موبائل پر48000روپے کی ملےگی، اب اس میں 2 مہینے کا وقت طے ہوگیا، اگر 3 یا 4 مہینے بھی ہو جائیں ،تو میں جو رقم پہلے طے ہوئی ہے، وہی لوں گا، اضافی رقم نہیں لیتے،آیا کہ یہ کام اس طرح کرنا صحیح ہے یا نہیں؟ اس ، اب وہ اس موبائل کا مالک ہے ،اب وہ اس کو بیچے یا کچھ بھی کرے ،یہ اس کا حق ہے۔ ہم سے جو طے ہوا ہے ،ہم صرف وہی رقم لیں گے یعنی،48000 روپے۔ جبکہ میرا کوئی ذاتی دکان نہیں ۔20000ہزا ر ایڈوانس لیتا ہوں اسکے 20000ہزا ر میں 20000ہزا ر اپنا شامل کر دیتا ہو۔باقی 28000 روپے 3 قسطوں میں لیتا ہو۔شرعی حیثیت سے یہ کام جائز ناجائز حرام حلال کس حیثیت سے ہیں؟اگر یہ طریقہ کار غیر مناسب یا شرعی اعتبار سے یا علماء کرام کے نزدیک صحیح نہیں ہے تو میری رہنمائی فرمائیں۔
صورت مسئولہ مىں اگر سائل کسٹمر کے مطالبہ پر اس کا نائب (وكىل) بن کر وہ چیز ماركىٹ سے نہ خریدے اور نہ خریداری سے قبل کسٹمر کے ساتھ باقاعدہ فروختگی کا معاملہ کرے، بلکہ کسٹمر کی جانب سے ڈیمانڈ آنے پر محض ایك وعدہ کرتے ہوئے مستقبل میں اسے وہ فروخت کرنے کا وعدہ کرے اور پھر مارکىٹ سے وہ چیز اپنے لیے خریدے (جس کی صورت یہ ہوگی کہ اگر کسٹمر کو وه چىز پسند نہ آئے یا دونوں لکھے ہوئى رىٹ پر متفق نہ ہوں، تو کسٹمر لینے کا پابند نہ ہوگا) تو ایسی صورت میں سائل کا مارکیٹ سے وہ چىز خرید کر باقاعده اپنے قبضے میں لىنے كے بعد درج ذیل شرائط کے تحت آگے گاہك کو فروخت کرنا شرعا جائز ودرست ہوگا، وه شرائط ىہ ہىں:
(1) مجلس عقد میں یہ طے کر لیا جائے کہ یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا۔
(2) ہر قسط کی مالیت طے کر لی جائے ۔
(3) یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل کتنی قسطیں ہو نگی۔
(4) کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ مشروط نہ ہوگا ۔
کما في مسند أحمد: عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: نهى رسول الله ﷺ عن بيعتين في بيعة، وعن بيع وسلف، وعن ربح ما لم يضمن، وعن بيع ما ليس عندك اهـ [مسند عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما، ج:11 ص:203 رقم الحديث (6628) ط: مؤسسة الرسالة العالمية )]
وفي بدائع الصنائع: والمراد منه بيع ما ليس عنده ملكا؛ لأن قصة الحديث تدل عليه فإنه روي أن «حكيم بن حزام كان يبيع الناس أشياء لا يملكها، ويأخذ الثمن منهم ثم يدخل السوق فيشتري، ويسلم إليهم فبلغ ذلك رسول الله ﷺ فقال لا تبع ما ليس عندك» ، ولأن بيع ما ليس عنده بطريق الأصالة عن نفسه تمليك ما لا يملكه بطريق الأصالة، وأنه محال، وهو الشرط فيما يبيعه بطريق الأصالة عن نفسه اهـ [كتاب البيوع، فصل في الشرط الذي يرجع إلى المعقود عليه، ج:5 ص:147 ط: سعيد)]
وفي سنن الترمذي تحت حديث أبي هريرة رضي الله عنه: نهى رسول الله ﷺ عن بيعتين في بيعة: وقد فسر بعض أهل العلم، قالوا: بيعتين في بيعة، أن يقول: أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولا يفارقه على أحد البيعين، فإذا فارقه على أحدهما، فلا بأس إذا كانت العقدة على واحد منهما اهـ [كتاب البيوع، باب ما جاء في النهي عن بيعتين في بيعة، ج:13 ص:84 ط: دار الرسالة العالمية)]
وفی المبسوط: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي ﷺ عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد اهـ [كتاب البيوع، باب البيوع الفاسدة، ج:13 ص:8 ط: دار المعرفة بيروت]
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0